تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 130 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 130

تاریخ احمدیت 130 اور رفاقت کا حق ادا کیا۔اور جماعت کے ہر دکھ درد میں مادر مہربان کی طرح شریک ہوئیں۔اور جماعت نے بھی اس نقصان عظیم کو جس طرح محسوس کیا ہے اس کی نظیر صرف روحانی رشتوں ہی میں مل سکتی ہے۔دراصل یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے اس لئے جہاں ہم آپ کی اس ہمدردی پر تہ دل سے مشکور ہیں وہاں ہمارے دل اس محسن حقیقی کے حضور بھی جذ بہ ممنونیت سے لبریز ہیں کہ ہمارے لاکھوں لاکھ بھائی بہن ہمارے اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس شفیق اور متبرک سائے کے اٹھ جانے کی کمی کو یکساں طور پر محسوس کر رہے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کی بارش برابر ہم سب پر اور حضرت امی جان پر برستی رہے اور سیدنا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت وجود تادیر ہمارے درمیان موجود رہے۔تا اللہ تعالیٰ رح کے وعدے جلد پورے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت امی جان۔۔۔۔کو اپنے مقام قرب و رضا میں جگہ عطا فرما دے۔آمین اللـهـم صــل عـلـى محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد۔والسلام خاکسار جلد ۲۰ مرزا ناصر احمد - ربوہ جیسا کہ " تاریخ احمدیت جلد سوم میں مفصل ابتدائی حالات اور عظیم الشان خدمات ذکر آپکا ہے اکتو بر ۱۹۰۲ء میں آپ کا رڑ کی میں سیدنا محمود الصلح الموعود سے نکاح ہوا اور اکتوبر ۱۹۰۳ء کے دوسرے ہفتہ آگرہ میں تقریب لمصل رخصتا نہ عمل میں آئی۔حضرت سیدہ ام ناصر کا وجود حضرت مصلح موعود کے فیض تربیت کے نتیجہ میں پوری جماعت کے لئے اخلاص و فدائیت کا ایک قابل تقلید نمونہ تھا۔آپ نہایت متقی ، نیک، سلسلہ کا درد رکھنے والی سلیقہ شعار خاتون تھیں۔بلند اخلاقی، شفقت اور ہمدردی کا پیکر تھیں۔احمدی مستورات کے نظم و ضبط اور تحریک لجنہ اماء اللہ کو متحکم کرنے میں آپ کی زریں خدمات کا بھاری عمل دخل