تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 123
تاریخ احمدیت 123 گیارہ بجے چھرہ پانی سے جیپ میں سے چند سواریاں اتار کر حضور اور خاکسار جیپ کے فرنٹ سیٹ پر اور محترمہ سیدہ ام متین صاحبہ پیچھے بیٹھ گئیں۔جیپ کے ڈرائیور کو ہدایت ملی کہ تم جتنا تیز چلا سکتے ہو چلا ؤ۔یہاں سے وقت اور مسافت کی اطلاع دینے کی ذمہ داری حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے اٹھالی۔آخر خدا خدا کر کے ہم مری پونے بارہ بجے پہنچے۔حضور کی آمد کی اطلاع راستہ ہی میں ٹیلیفون پر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے کر دی تھی۔حضرت میاں صاحب والی کار بھی زیادہ تیز رفتاری کی وجہ سے عین چندمیل میں آکر فیل ہو گئی اور وہاں سے وہ بمعہ سواریوں کے پیدل کوٹھی کی طرف آرہے تھے۔جب ہماری جیپ اکیلی کا نیشیا لاج پہنچی تو سب حیران ہو گئے۔مگر جوں ہی جیپ کوٹھی میں داخل ہوئی تو خاندان کے تمام افراد اور احباب نے جیپ کے گرد گھیرا ڈال لیا۔خاکسار نے جب ایک نظر کوٹھی پر ڈالی اور پھر اس کے مکینوں اور دوسرے احباب پر جس میں ہر وقت گہما گہمی رہتی تھی اور ہر شخص ہشاش بشاس رہتا تھا اور جن کے چہروں پر کبھی ملال نہ دیکھا تھا آج سب کی آنکھیں اپنی پیاری امی جان کی جدائی کے ناقابل برداشت صدمہ سے سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔حضور کو دیکھتے ہی ان کی آنکھیں جو آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں پھر چھلک گئیں۔یہ وقت میرے لئے بہت نازک تھا۔مجھے سے بھی ان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا میں چاہتا کہ ان میں ہر ایک کے گلے لپٹ کر زور زور سے چلاؤں مگر میری ذمہ داریاں مجھے ہر بار روک دیتیں۔پھر خاکسار کئی دفعہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے پاس آتا تو ان کو بہت صبر اور تحمل سے ٹیلیفون پر مختلف لوگوں اور شہروں کو پیغامات دیتے دیکھتا۔اور اس طرح باہر کے مہمانوں اور حاضرین سے ملتے اور بہت صبر اور حوصلہ سے باتیں کرتے دیکھتا تو طبیعت میں قدرے سکون پیدا ہو جاتا۔تین بجے تک غسل اور تکفین کے تمام انتظامات مکمل ہو جانے کے بعد جنازہ باہر صحن میں لایا گیا اور حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔اس کے بعد جنازہ کو اٹھا کر لاری میں رکھا گیا۔عین اس وقت مجھے خیال آیا کہ جب ۱۹۵۷ء میں ہمارا قافلہ مری کو چھوڑ رہا تھا اور حضرت امی جان سنوڈن کوٹھی سے نیچے سڑک تک پالکی میں جلد ۲۰