تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 122
تاریخ احمدیت 122 اندوہناک سفر کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔کون جانتا تھا کہ آج کا آفتاب ہمارے لئے ایک غم اور نا قابلِ برداشت صدمہ کا پیغام لے کر آرہا ہے۔۵۸-۷-۳۱ کا آفتاب صبح طلوع ہو رہا تھا مخلہ میں ہمارا قافلہ مری جانے کے لئے تیاریاں کر رہا تھا۔سارے انتظامات مکمل ہو جانے پر حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اطلاع پہنچائی گئی کہ سارا قافلہ سفر کے لئے تیار کھڑا ہے۔حضور پونے چھ بجے تشریف لائے۔موٹروں میں بیٹھنے سے پہلے ساری موٹروں اور ہم سفر احباب پر ایک نظر ڈالی اور پھر موٹر میں بیٹھ گئے۔جونہی ہم نخلہ کی سڑک سے پختہ سڑک پر پہنچے حضور نے وقت اور تلہ گنگ کا فاصلہ دریافت فرمایا۔خاکسار کے جواب پر حضور نے اندازہ فرمایا کہ اتنی دیر میں ہم پنڈی پہنچ جائیں گے۔اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد حضور طے شدہ فاصلہ اور وقت دریافت فرماتے رہے جس سے حضور کا منشاء مبارک یہ معلوم ہوتا تھا کہ تیز پہنچنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ موٹر کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ہم سوا آٹھ بجے پشاور پنڈی روڈ والے پہلے پٹرول پمپ پر جب پٹرول ڈالنے کے لئے رکے تو حضور کو اتنی دیر کے لئے بھی رکنا پسند نہیں تھا۔اس لئے جلدی جلدی پٹرول ڈال کر روانہ ہوئے۔مگر جوں ہی ہم شہر کے درمیان پہنچے اچانک ہماری کاریں جماعت احمد یہ راولپنڈی کے افراد نے اشارہ کر کے روک لیں۔چونکہ حضور کسی رکاوٹ کو پسند نہیں فرماتے تھے میں تیزی سے احباب کو بتانے کے لئے اترنے لگا اتنے میں پیر انوارالدین صاحب نے فوراً آگے بڑھ کر موٹر کا دروازہ کھولا اور حضور کے دست مبارک کو بوسہ دے کر سسکیاں بھرتے ہوئے یہ المناک خبر سنائی کہ مری سے ٹیلیفون کے ذریعے خبر ملی ہے کہ سیّدہ ام ناصر صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ خبر سب قافلے کے دلوں میں نشتر کی طرح چھی۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے جو قافلے کی رہنمائی فرما رہے تھے چلنے کا حکم دیا۔قافلہ روانہ ہوا اور خاکسار ہر سنگِ میل پر طے شدہ فاصلہ کی خبر حضور کو پہنچا تا رہا۔حتیٰ کہ جب چھرہ پانی پہنچے تو موٹر اتنی گرم ہو گئی تھی کہ آگے چلنے کے قابل نہ رہی تھی۔جلد ۲۰