تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 101
تاریخ احمدیت 101 زمیندار اور پرائیویٹ آمدنی رکھنے والے دوسرے اشخاص نیز ملا زمتوں سے پنشن یافتہ لوگ قادیان میں آکر رہائش پذیر ہو گئے۔بعض کاروباری احمدیوں نے بھی یہاں اپنے کاروبار جاری کر دیئے ہیں جن میں ترقی ہوگئی۔سلسلہ کی مرکزی تنظیم کی طرف سے بھی کچھ کام شروع کئے گئے۔نیز مالدار طبقہ سے بھی جاری کرائے گئے۔چنانچہ مزدوروں اور کاریگروں کی ضرورت بڑھنے لگی۔سلسلہ کے پاس ( ملک کی تقسیم سے پہلے ) سندھ میں اراضی تھی جہاں جماعت کے بے کار لوگوں کو بھجوایا جاتا تھا۔قادیان کے احمدیوں کے سامنے ایک لائحہ عمل اور پروگرام ہے جس پر ان کی طاقتیں خرچ ہوتی ہیں۔اور ان کی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں اور اس طرح ان کا جوش اور جذبہ بیدار رہتا ہے۔باوجود اس کے کہ سماجی طور پر ان کے خیالات اور اصول پرانے ہیں لیکن وہ جدید طریقوں کو بھی اپنائے ہوئے ہیں اور وہ قادیان میں پرانی یادگاروں کو اب بھی زندگی کے احساس سے دیکھتے ہیں۔احمدی پر جوش مبلغ ہیں اور مادی اعتبار سے وہ اپنی چھوٹی اور متحدہ جماعت کو صنعتی اور مالی طور پر وسعت دے رہے ہیں۔( ترجمہ ) - ۲۲ جلد ۲۰ متحدہ عرب جمہوریہ کے صدر کا مکتوب سید منیر الحصنی کے نام مئی ۱۹۵۸ء میں احمد یہ مشن شام کے انچارج السید منیر اکھنی صاحب نے جمال عبد الناصر صدر متحدہ عرب جمہوریہ کی خدمت میں سلسلہ احمدیہ کا عربی لٹریچر بھیجا۔جس پر انہوں نے اا مئی ۱۹۵۸ء کو شکریہ پر مشتمل مکتوب لکھا جس کا متن شام کے مشہور اخبار ”صوت العرب‘ نے ۱۵ رمئی ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں دیا۔چنانچہ لکھا: - ممثل الطائفة الاحمدية يتلقى كتابا رفيعا من سيادة الرئيس جمال عبدالناصر كان السيد منير الحصنى ممثل الطائفة الاحمديه في دمشق اهدى سيادة الرئيس جمال عبد الناصر بعض الكتب