تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 84 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 84

AM کے لئے بنایا ہے۔دھوکہ دہی یا فتنہ کی نیت سے نہیں۔میں قریب سے جب اس منارہ کو دیکھتا ہوں۔تو اصل منارہ پر جہاں منارة المسیح لکھا ہوا ہے۔اس کی وہ جگہ خالی پڑی ہے اس پر مجھے یہ تو نشستی ہوتی ہے کہ احمدیوں کو دھوکا نہیں ہوگا۔مگر پھر میں سمجھتا ہوں۔کہ مٹرک پر سے گزرنے والے ناواقف غیر احدی دھوکے میں پڑھائیں گے۔باچھی داؤد کو میں نے صبح اٹھتے ہیں یہ خواب سنا دی تھی۔اور ہم سب کا یہ خیال تھا۔کہ خدانخواستہ کوئی فتنہ اٹھنے والا ہے۔والسلام مرزا طاہر احمد سے مسئلہ خلافت کے ایک اہم پہلو کی وضاحت 1984 مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے شروع اگست تہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی خدمت میں کتاب "برکات خلافت کے مندرجہ ذیل فقرات بغرض تشریح پیش کئے۔وہ نادان جو کہتا ہے کہ گرمی بن گئی ہے۔اسکوئی قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ میں تو یہ جائز ہی نہیں سمجھتا کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو۔ہاں اگر خدا تعالیٰ چاہے مامور کر دے تو یہ الگ " بات ہے۔اور حضرت عمر کی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے۔کہ باپ کے بعد بیٹیا خلیفہ نہیں ہونا چاہیئے۔برکات خلافت ص۲۲ تقریر ۹۱۳له) د را گست سوار کو حضور نے اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل الفاظ میں اس کی تشریح فرمائی۔مد یعنی باپ کو بیٹے کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں کرنا چاہیے۔جس طرح حضرت عمر نے منع فرمایا کیونکہ جو پانچ آدمی انہوں نے خود نامزد کئے تھے نہ کہ جماعت نے ان میں ان کا بیٹا بھی تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا اسے مشورہ میں شامل کر د خلیفہ مت بنا نا پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر کے نزدیک باپ اپنے بعد بیٹے کو خلیفہ نامزد نہیں کر سکتا۔مگر حضرت علی نے اس کے خلاف کیا اور اپنے بعد حضرت حسن کو خلیفہ نامزد کیا۔میرا رحجان حضرت علی مر کی سجائے حضرت عمر کے فیصلہ کی طرف ہے خود حضرت جس بھی مجھ سے متفق نظر آتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے بعد میں حضرت معاویہ ان کے حق میں دست برداری دے دی۔اگر وہ یہ سمجھتے کہ باپ بیٹے کو اپنے بعد خلیفہ بنا الفضل ۱۳ را ستمبر ۱۹۵۶ ء ص ۵۲