تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 82 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 82

AY کے فضل سے قائم ہے اور انشاء اللہ العزیز قبر میں ساتھ جائے گا۔تَبْدِي عِظَامِي رَفِيْهَا مِنْ مَوَدَّتِكُمْ هَدَى مُقِيمٌ وَشَوْق مَيْرُ مُنْصَوم مجھے ان معترمنین کی جہالت پر تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کو کچھ بھی علم نہیں مگر اخبارات کے کالم کے کالم سیاہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طرح ایک دو دن ہوئے " پاکستان کالمز میں ایک صاحب کا خطہ چھپا تھا جس میں محترمی چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے مطبوعہ خط کے اس فقرہ پر اعتراض کیا گیا تھا کہ حضور تو حضور کی ولادت با سعادت سے بھی پہلے احمدیت کا ایک ضروری جز تھے۔ظاہر ہے کہ محترم چو ہدری صاحب کا اشارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی بار مصلح موعود کی طرف تھا۔جو حضور کی ولادت سے تین برس پہلے ۲۰ فروری ستشملہ کے اشتہار میں شائع کی گئی تھی۔اور جس کے عین مطابق حضور ۱۲ جنوری شملہ کو پیدا ہوئے۔پھر چوہدری صاحب محترم کا اشارہ و سرور کائنات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیش گوئی کی طرف تھا کہ مسیح موعود جب دنیا میں آئے گا تو اس کے ہاں ایک عظیم الشان بیٹا پیدا ہو گا ، پھر چو ہدری صاحب محترم کا اشارہ حضرت نعمت اللہ ولی کی اس مشہور و معروف پیشگوئی کی طرف تھا عمر پسرش یادگار می بینم یعنی امام مہدی کے بعد اس کا ایک بیٹا اس کا جانشین اور خلیفہ ہو گا۔ان تینوں پیشگوئیوں میں حضور کے وجود باجود کی واضح طور پر خبر دی گئی تھی۔اور بتایا گیا تھا کہ اسلام کی جو فتح آخری زمانہ ہی مسیح موعود کی بعثت کے ساتھ مقدر ہے اس کی تکمیل میں حضور کی ذات کا بھی بہت بڑا حصہ ہے اس پیشگوئی کو ہم گزشتہ ۴۲ سال سے پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پس تو کچھ چو ہدری ظفر اللہ خانصاحب نے لکھا وہ بالکل درست تھا۔لیکن پاکستان ٹائمز کے مکتوب نگار نے اپنی ناواقفیت اور جہالت کے باعث اس پر مذاق اڑا کر اہل علم کی نظروں میں خود اپنے آپ کو مضحکہ خیز بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل سلیم عطا کرے اور حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین والسلام۔ه ر ترجمہ میری ہڈیاں بوسیدہ ہو گئیں مگر تمہاری محبت کے باعث ان میں بھی محبت قائم کر دائم ہے جو کبھی اُن سے جدا نہیں ہو گی۔-