تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 776
کا دورہ کرتے ہوئے احمد یہ سنڈل سکول ہو میں تشریف لے آئے قامنی مبارک احمد صاحب ہیڈ ماسٹر سکول اور سٹاف نے اُن کا خیر مقدم کیا آپ نے سکول کے اسمبلی ہال میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - ہر وہ انسان جو کسی دور دراز کے ملک سے کسی دور دراز ملک میں جاتا ہے اس کے مدنظر کچھ وجوہ اور مقاصد ہوتے ہیں بلکہ سرا بنی جو کسی دوسرے مقام سے آتا ہے اس کی آمد کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔یہ احمدیہ مشتری جنہیں آج ہم اپنے درمیان دیکھ رہے ہیں یہ بھی ایک خلاص غرض اور خاص مقصد کے پیش نظر یہاں آئے وہ غرض اور مقصد کیا تھی ؟ وہ اسلام کی اس ملک میں ڈونگاتی کشتی کی ناخدائی تھی۔دیکھنے اور سننے والوں نے دیکھا اور ٹنا بعض نے ان پر بہنا شروع کر دیا اور شدید یافت کی بعض نے ایک حد تک توجہ بھی دی لیکن محض سننے کی حد یک اور بعض نے سنجیدگی سے سوچنا تمر و ع کر دیا کیونکہ اس وقت کہ جب ان کے پہلے احمدیہ مشنری الحاج نذریہ احمد علی مرحوم نے سر زمین سیرالیون پر قدم رکھا یہ زمین عیسائیت سے انتہائی طور پر متاثر مفتی اور لوگ سمجھتے تھے کہ اسلام کو عیسائیت کے مقابل پر دیکھنا یا کھڑا کرنا اب ناممکن اور محال ہے لیکن چند اسلام کے خبروں نے اس مبلغ کی دعوت پہ توجہ دی اور لبیک کی صدا بلند کی۔آج کچھ عرصہ نہیں گزرا کہ وہی احمدیت یا حقیقی اسلام جس کے متعلق اس وقت یعنی آج سے تقریباً ہمیں کل قبل یہ بجھا جاتا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا پودا ہے جو چند یوم کے بعد اپنی موت خود مر جائے گا۔وہی پورا آج پنپ رہا ہے اور اپنی جڑوں کو اس مضبوطی سے سرزمین سیرالیون میں پیوست کر چکا ہے کہ اب خطر ناک سے خطر ناک آندھی بھی اس کو اکھاڑنے کی متحمل نہیں ہو سکتی آپ نے فرمایا احمدیت نے ان چند سالوں میں باوجود مخالفت کی آندھیوں اور نامساعد حالات کے جو غیر معمولی اور حیرت انگیز ترتی کی ہے یہ اس امر کا پیش خیمہ ہے کہ ایک بڑا انقلاب جلدی احمد بہیت کے ذریعہ اس ملک کی کایا پلٹ دینے والا ہے اور وہ وقت بھی کوئی بہت دور نہیں جب سیرالیون کا ہر فرد لوائے احمدی کے نیچے کھڑا ہو کر اسلام اور توحید کا نعرہ بلند کر رہا ہو گا گو آج اس دعوٹی کو مجنوں کی بڑ ہی سمجھا جائے گا اور اس پر طاقتور عیسائی مشن ہنسی اڑائیں گے۔انہوں نے فرما یا عملی طور پر میں پہلے بھی احمدی متھا۔اب بھی احمدی ہوں اور انشاء اللہ ہمیشہ ہمیش احمد میں رہوں گا۔یہ میری ذاتی کمزوری ہے کہ بعض مجبوریوں کی بنا پر یکی ظاہری اپنے قبیلے کے مذہبی نظام میں منسلک ہوں میں ان کا لیڈر اور چیف ہوں اس لیے اُن کے قدیمی طور پر عقائدہ کا احترام بطور چیف میرا فرض ہے۔