تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 775 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 775

64۔لحاظ سے اس ملک کے سینکڑوں بچے ان کے سکولوں میں پڑھ کر اور ان کے زیر تربیت رہ کر بہترین شہر می بن چکے ہیں۔۔۔۔۔احمدیہ جماعت کے مشن دنیا کے تمام ممالک میں کام کر رہے ہیں اور ہر جگہ ان کے فیض سے ہزاروں لوگ مستفید ہورہے ہیں۔میں ان کے یورپین مشنوں کو جانتا ہوں اور بعض میں خود بھی گیارموں اور لنڈن کے سب اسلامی سنڑوں میں میں نے لیکچر دیئے ہیں۔اس جماعت کی لینڈن مسجد میں دو تین دفعہ لیکچر دینے کے لیے بھی بلایا گیا اور اسی طرح مجھے ان کا قابیل قدر کام لنڈن میں اپنی آنکھوں سے ملاخطہ کرنے کا موقع ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔گوئیں ماسکی سکول آفت تھاٹ کا مسلمان ہوں اور احمد می نہیں ہوں مگر ان احمدی مبلغین کی مساعی کو دیکھ کر اور ان کی بے لوث قربانیوں کی وجہ سے ہمیشہ ان کا مداح رہا ہوں اور میں رنگ میں بھی ان کے اس مقدس کام میں ان کا ہا مخف ٹا سکتا ہوں بٹاتا رہوں گا۔افسوس ہے مسلمانان سیرالیون کے اس سیکشن پر جو ابھی تک ان لوگوں کی پہچان نہیں کر سکے اور ان کے راستہ میں مخالفانہ روڑے اٹکاتے ہیں۔اس کے بعد مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری نے قرآن کریم انگریزی ترجمہ اور لالات آن محمد کا ایک نسخہ دن یہ اعظم سیرالیون کو پیش کیا ھے انہوں نے نہایت ادب واحترام کے جذبات سے قبول کیا اور فرمایا :- میرے لیے یہ خوشی اور عزت کا مقام ہے کہ آج مجھے جماعت احمدیہ کی طرف سے قرآن کریم انگریزی اور لائف آف محمد جیسے بیش قیمت اور نادر تخالف پیش کیے جار ہے۔میں احمدیہ مشن اور ان مبلغین کی مساعی ، قربانیوں اور سادہ طرز رہائش سے بہت متاثر ہوں مبلغین کو وہ اسباب و سلمان اور آسانیاں میسر نہیں ہیں جو اس ملک کے دوسرے مشنوں کو ہیں مگر پھر بھی احمدی مبلغین ہمہ تن اس ملک کی دینی اور تعلیمی بہبو دمیں منہمک نظر آتے ہیں۔" - - " اخبار ڈیلی میل" نے صفر اول پہ اس تقریبک فوٹو دیگر کارروائی شائع کی اور ریڈیو سے بھی اسے نشر کیا گیا ہے ۲۰۰۳ نومبر ۱۹۵۷ء کو سیرالیون کے وزیر پبلک ورکس آنریل چیف کا نڈے بورے جنوبی صوبہ له الفضل ۳۰ ۳۱ اکتوبی ۱۹۵۰ء (خلاصہ ر پورٹ چوہدری محمود احمد صاحب جیمیہ)