تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 774
609 اور اگلے روز مل کر چار میل پر ایک قصبہ کو مینڈے اور پھر مانگا میں کچھ دیر ٹھہر کر ٹریچر فروخت کیا اور تبلیغ بھی کی پھر بذریعہ لازی بونگو آئے اور وہاں احمدی بھائیوں کے ہاں قیام کیا۔اور دو روز تبلیغ تربیت میں مصروف رہے وہاں سے ایک اور احمدی گاؤں، جوئی پہنچے اور دو روز قیام کیا یہاں بھی ہمارے احمدی بھائیوں نے ہماری خوب خاطر مدارت کی بہت خوش ہوئے اور ہمیں ہر قسم کا آرام پہنچا ہم نے گاؤں کے غیر احمدی طبقہ میں بڑے اچھے ماحول میں تبلیغ کی وہاں سے چند میل چل کر ہم مضلع کے مرکز می قصبہ کینما ( KENEMA) آئے چونکہ ہمارے وقفِ عارضی کا مہینہ ختم ہو گیا تھا اس لیے ہم عارضی تھا یکم اکتوبر ، ۱۹۵ء کو بذریعہ ریل گاڑی ۴۵ میل کا سفر طے کر کے بخیریت اپنے مرکز بو" پہنچ گئے۔فالحمد الله اولاد أخيراً۔بذر اس تبلیغی دورہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم نے ۱۱۰ میل پیدل ، ۶۵ میل بذریعہ لاری ور ۱۳۲۰ میل بند بعد دلیل سفر کیا تقریبا تین ہزار افراد کو پیغام حتی پہنچایا اور خدا کے فضل سے ۴۴ افراد ہمارے ذریعہ بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔اور تین جگہ بالکل نئی جماعتیں قائم ہوئیں لے ۲ - جماعت احمدیہ سیرالیون کے ایک رند نے جو مولوی محمد صدیق امرتسری امیر د مبالغ انچارج مولوی محمود احمد صاحب جیمیہ اور ملک غلام نبی صاحب شاہد پرمشتمل تھا در اکتو به ۱۹۵۰ء کو وزیر اعظم سیرالیون ڈاکٹر ایم اے ایس مار گائے سے ملاقات کی۔اس موقع پر آن مبل ایم ایس مصطفے وزیر معدنیات و زراعت نے جماعت احمدیہ کے مبلغین اور مشن کا تعارف کرائے ہوئے فرمایا کہ : - یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اس خطہ سیرالیون میں اسلامی نور کی شعاعوں کو تیز ترین کر کے ہمیں جگا دیا ہے۔یہ لوگ تقریبا عرصہ ۲۰ سال سے مصائب و مشکلات بر داشت کرتے ہوئے اس ملک کی دینی اور تعلیمی حالت کو بہتر بنانے میں مشغول ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ امر بھی قابل ستائش ہے کہ۔ان نوجوان مشنریوں کی انتھک خدمات صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں اور انہیں تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ ہر ایک کا بھلا چاہتے اور خدمت خلق کا جذبہ ان کے ہر کام اور سکیم میں نمایاں نظر آتا ہے۔تعلیمی را تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الفضل ۳۰ر نومبر۔یکم دسمبر ، ۶۱۹۵