تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 772
کو جمع کرے گر اس نے تعاون نہ کیا ہم نے گھر گھر جاکو انفرادی طور پر اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچا یا امام مہدی کی آمد کی بشارت دی اور رات گزار کہ اگلے روز وہاں سے تین میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں بامبا ہوں (BAMBAHUN) پہنچے جہاں ہم نے دو لیکچر دیئے اور انفرادی تبلیغ بھی کی اور لٹریچر تقسیم کی گاوں والے ہمار می تبلیغ سے بہت خوش ہوئے اور دوبارہ آنے کو کہا دو پونڈ بطور امداد مشن کو ہمیں دیئے وہاں سے چار میل پیدل چل کر ایک گاؤں پیری ( PEERI) پہنچے۔لوکل چیف کے تعاون سے ہم نے " پبلک لیکچر دیا۔بہت اچھا اثر ہوا۔چیف نے ہماری مہمان نوازی بھی کی اور خدا کے فضل سے دو افراد جماعت میں شامل ہوئے وہاں سے ہم چانگو رہ CHANG ) پہنچے یہ مخالفت گاؤں تھا انہوں نے ہمیں ٹھہر نے نہ دیا اس لیے ایک گھنٹہ کے بعد ہم آگے روانہ ہو گئے اور تین میل پیدل چل کر ایک گاؤں کالونا پہنچے اور گاؤں میں پھر کر اعلان کیا کہ ہم تقریرہ کریں گے کیونکہ ٹاؤن چیف گاؤں سے باہر تھا اور بڑے بڑے لوگ مخالف تھے لوگ میدان میں جمع ہو گئے انہیں اسلام پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور امام مہدی کی بشارت دی اور سوالات کے جوابات دیئے ہم صبح سے بھو کے تھے۔اور کئی میل پیدل چل چکے تھے مگر مخالفت کی وجہ سے کسی نے ہمیں پانی تک نہ پوچھا۔جنگل میں خرید و فروخت بھی نہیں ہوتی۔اس لیے بھوکے ہی آگے روانہ ہو گئے۔وہاں سے بذریعہ کشتی ایک دریا عبور کیا اور تین میل چل کہ ایک گاؤں " باگو پہنچے۔بارش سے ہمارے کپڑے ترنو تھے کیونکہ گذشتہ تین میں بارش میں سفر کیا تھا یہاں بھی ہماری بہت مخالفت ہوئی اور ہم آدھ گھنٹہ سستا کر نا چار آگے چل پڑے اور دو میل طے کر کے ایک گاؤں کا سیما ( KH MEEMA) میں تین روزہ قیام کر کے دن رات خوب تبلیغ کی۔لوگ بہت اچھی طرح پیش آئے مہمان نوازی بھی کی اور تمہیں بہت آرام دیا اور خدا کے فضل سے آٹھ افراد معہ امام مسجد بیعت کرلی۔الحمد للہ کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نئی جماعت عطا فرما دی اور نبی کی تعلیم و زبیت کے لیے بعد میں مرکز می مشن کی طرف سے کریم ملک غلام نبی صاحب مبلغ سیرالیون کو بھیجا گیا۔وہاں سے ہم دو میل پر ایک گاؤں فوفو پہنچے ایک روز قیام کیا انفرادی تبلیغ کی ایک دکان پر دو گھنٹے مر میں گفتگو اور سوال وجواب ہوتے رہے۔گاؤں میں لٹریچر تقسیم کیاگیا۔اگلے روز میں چل کر ایک گاؤں پانڈے ہو پہنچے دو روز قیام کیا اور سارا سارا دن تبلیغ اور وعظ ونصیحت میں گزرتا رہا۔لوگوں نے ہماری باتیں بڑی دلچسپی اور توجہ سے نہیں۔چار افراد نے بیعت کی۔باتی لوگوں نے غور کرکے فیصلہ