تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 60
مسیح موعود کی اولاد رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کو توڑنا چاہے تو ہم بغیر ڈر کے اس پر لعنت کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ یہ بد بجنت میں درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا ہے اسی درخت کی جڑ پر تبر رکھنا چاہتا ہے اور اسے کاٹ کر پھینک دینا چاہتا ہے میں سمجھتا ہوں اگر یہ خبیث کامیاب ہو جائیں تو کسی کو کوئی فائدہ ہویانہ ہو مرنہ صاحب نعوذ باللہ ضرور کذاب ثابت اور دنیا کہے گی کہ ہی مشن کے لئے وہ کھڑے ہوئے تھے اس میں وہ نا کام ہو گئے پس نہیں کم از کم تین سو سال تک تو اکٹھا رہنا ہے تاکہ ہم عیسائیت کا مقابلہ کر سکیں اور اسلام کو دنیا کے کو نہ کو نہ ہیں پھیلا سکیں۔ہم حضرت خلیفہ اول کا بڑا ادب کرتے ہیں مگر یہ لوگ بتائیں تو سہی کہ وہ کون سے ملک ہیں جن میں مولوی نور الدین صاحب نے اسلام کی تبلیغ کی یورپ۔امریکہ۔افریقہ اور ایشیامیں وہ کوئی ایک ملک ہی دکھا دیں جس میں انہوں نے اسلام پھیلایا ہو سر ملک میں میں نے مبلغ سمجھوائے یورپ کی ہر مسجد میں نے بنوائی اور بیرونی ممالک میں ہر مشن میں نے قائم کیا۔اگر اس کو ہٹا دیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعویٰ میں بالکل ناکام ثابت ہوتے ہیں پس میری موت اور میری ناکامی میری موت اور میری ناکامی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی موت اور نا کامی ہے کیا میاں عبدالوہاب صاحب کا خطا اور اس کا حقیقت افروز جواب حضرت مصلح موعود کے باطل شکن پیغام کے منظر عام پر آنے سے اگر چہ میاں عبدالوہاب صاحب کے ساتھیوں میں زبر دست کھیل بچ گئی۔مگر وہ خود اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے۔کہ انہیں اب بھی سید نا حضرت خلیفہ اول کی اولاد ہونے کے باعث کھل چھٹی دے دی جائے گی۔اور ان کی باغیانہ سرگرمیوں پر بدستور پر وہ پڑا رہے گا۔اسی خیال کے ماتحت اُنہوں نے حضرت مصلح موعود کے حضور یہ عرضداشت پیش کی۔کمر : - ر نہایت ہی پیارے آقا ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبیر کا انڈ الفضل میں اللہ رکھا کے منغلقی ایک مضمون پڑھا۔اس سلسلہ میں بد قسمتی سے میرا نام بھی آگیا ہے ا روزنامه الفضل ، راگست ۱۱۹۵۶ صفحه ۵٫۳