تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 59
۵۹ چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو ناکام ونامراد کیا جائے کیا ایسے جینوں کا ہم ادب کریں گے یا ان کا مقابلہ کریں گے ہم نے ان کے باپ کو اس لئے مانا تھا کہ وہ مسیح موعود کا غلام تھا اگر وہ مرزا صاحب کے غلام نہ ہوتے اور اگر مرزا صاحب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نہ ہوتے تو ہم نہ نورالدین کو مانتے اور نہ سیح موعود کو مانتے۔نور الدین کو ہم نے اس لئے مانا کہ وہ مسیح موعود کا غلام تھا اور مسیح موعود کو ہم نے اس لئے مانا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا اگر اس زنجیر کو توڑ دو تو پھر ایمان لانے کا کوئی سوال ہیں باقی نہیں رہتا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اگر میری وحی قرآن کے خلاف ہو تو میں اسے بھوک کی طرح پھینک دوں نے ر آئینہ کمالات اسلام" صفحه ۲۱) پس آپ نے جب اپنی وحی کے متعلق یہ الفاظ لکھ دیئے تو اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ محض کسی بڑے آدمی کی طرف منسوب ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اصل بات جو دیکھنے والی ہوتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ بڑا آدمی میں راستہ پر چلا تھا آباد ہی راستہ چھوٹے نے بھی اختیار کیا ہے یا نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی دیکھ لو آپ ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ خدا کی قسم مجھے اپنی وحی کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر ویسا ہی یقین ہے جیسے قرآن کی مقت اللہ ! پر یقین ہے مگر دوسری طرف آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر میر می دمی قرآن کے خلاف ہو تو اسے بھوک کی طرح پھینک دوں اسی طرح اگر کسی بڑے آدمی کی اولاد مسیح موعود کے مشن کو توڑنا چاہیے یا (بقیہ حاشیہ مفردہ سے آگے) نہیں مانی ان میں سے اکثر فتح گڑھ چوڑیاں اور بقالہ کے پاس قتل کر دیئے گئے پھر لاہور میں میں نے اُن کے کھانے اور رہنے کا انتظام کیا اس کے بعد ربوہ کی زمین خریدی اور انہیں یہاں سے آیا پہلے انہیں کچھ مکانات بنا کر دیئے گئے پھر پختہ مکانات بنائے گئے۔اور ربوہ کو شہر کی حیثیت حاصل ہو گئی جب یہ سب کچھ ہوگیا اور انہیں امن میسر آ گیا تو ان میں سے بعض منافق میرے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔د روزنامه الفضل ربوه ، اور جولائی ۹۵۶ ارمت