تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 724 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 724

2۔9 کہ کہ آپ جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہو گئے لال حسین اختر نفریہ کر رہا تھا کہ آپ نے گرج کر کہا سائیں صاحب خادم آگیا ہے آپ کا یہ کہنا تھا کہ جلسہ گاہ پر سناٹا چھا گیا اور کئی منٹ تک خاموشی طاری رہی آخر مناظرہ کی طرح ڈالی گئی اور پرا سو گھنٹ آپ نے مناظرہ کیا اس کے بعد آج تک احرار کی طرف سے گنج مغلپورہ میں کوئی جلسہ نہیں ہو سکا اس کے مقابل جماعت احمدیہ مغلپورہ متواترہ اپنا سالانہ جلسہ کرتی رہی جو کامیابی کے ساتھ ہوتا رہا یہ واقعات ۱۹۳۲ ء سے لے کہ ۱۹۳۵ ء تک کے ہیں۔۹ - اہلحدیث حالم جناب مولوی ابو یحی امام خاں صاحب نو شہر دی در میری ان کی ملاقات کی تقریب میری طرف سے ان کی اور ان کے مسلک کی دشمنی سے شروع ہوئی۔جو بعد میں ان کی محبت مگر ان کے مسلک کے معاملہ میں بدستور دشمنی پر قائم رہی۔کاش اس بارہ میں اور شدت کی گنجائش ہوتی اور اے کاش خادمتم صاحب کی محبت میں اور انہ یاد ہو سکتا۔تقسیم وطن سے چودہ سال قبل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تحر یک احمدیت کی با قاعدہ بنیاد کھ دی گئی۔اُدھر سے باقاعدہ کام شروع ہو گیا ادھر سے احراری خیالات کے طلبہ نے بے قاعدگی سے استقبال شروع کر دیا۔مولانا ظفر علی خاں مرحوم کو دعوت دی گئی سید بخاری کو بلا یا گیا اور یونیورسٹی کتاب ، قادیانی مذہب" مرتبہ الیاس برنی کا عمل دخ بن گئی۔آپ کے فرقہ کے سالانہ طلبہ سیرۃ النبی کا اعلان ہوا۔ہم لوگ پہلے سے منتظر تھے۔طلبہ شہر کی مشہور عمارت لائل لائبریری میں ہونا تھا۔احراری طلبہ نے کسی اشتہار کے بغیر یونیورسٹی کے ایک ایک فرد کو اطلاع کر دی۔قرار پایا کہ جلسہ گاہ کے دروازہ پر پکٹ لگائی جائے احرار می طلبہ میں سے کوئی صاحب عملاً گیٹ پر کھڑے نہ ہو سکے بخلاف ان کے آپ کے گروہ کے مشہور نمبر ڈاکٹر عنایت اللہ شاہ صاحب فریق مخالف پر نگرانی کے لیے آتے جاتے رہے۔جلسگاہ کے داخلہ کا ایک ہی گیٹ تھا۔جس پر پکنے کے لیے مجھے نامزد کیا گیا۔قابل دید منظر متھا گیٹ سے باہر دور تک کالی شیروانی اور رکش کیپ والے طالب علم کھڑے تھے اور ایک طرف بیشتری نظارے باز تھے۔گیٹ پر صرف ایک طرف راقم السطور اور دوسری طرف عبد السلام محمر ڈاکٹر عبد الرحمن وسلم نیز در ایک اور صاحب تھے۔پکٹ جاری رہ ہی اتنے میں آپ کے سلسلہ کے واعظین تشریف لائے