تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 717
L خادم صاحب کی قلمی مساعی میں لاہور کے احمدی نو جوانوں کی ایک انجمن کا ذکر آتا ہے جس کا نام احمدیہ فیلوشپ آف یو تھ تھا۔اس کے کرتا دھرتا خادم صاحب ہی تھے۔اپنی کا ایک حلقہ تھا جو اس کے لیے چندہ دیتا یا جمع کرتا تھا۔جس سے اس کے پمفلٹ شائع ہوتے تھے۔بالعموم کسی یوم التبلیغ پر یاکسی اور اہم تقریب پر ایک پمفلٹ حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بھی رقم فرمایا اور اسی فیلوشپ کو چھاپنے کے لیے دیا۔احمدیہ فیلو شپ آف یو تھر کے پمفلٹوں کا فائل محفوظ کرنے کے قابل ہے۔امید ہے ہماری لائبر سمیر یاں اس کی طرف توجہ کریں گی۔میں اس فیلوشپ کے کاموں کو قریب سے جانتا تھا۔میرے مشورے اس میں شامل ہو تے تھے۔بلکہ اس زمانہ میں لاہور کا امیر ہونے کی وجہ سے ان پمفلٹوں کی اشاعت میں میری عام ذمہ داری بھی شامل ہوتی تھی۔احمد یہ فیلوشپ آف یو تھ میرا ہی تجویز کیا ہوا نام تھا۔انگلستان کی ایک ایسی ایسوسی الیشن کا نام تھا جو مجھے پسند آگیا اس زمانے میں لاہور میں ہم نے ایک سنڈی سرکل کی بنیاد رکھی جنہیں میں علمی مقالے پڑھے جاتے۔سال بھر کا پروگرام طے کر لیا جاتا۔ہر مقالے کے وقت مخصوص اور محدود مظفری ہوتی اور مقالے پڑھے جانے کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ ہوتا۔ہماری جماعت کے مشاہیر نے مثلاً اخوریم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے آدم فی القرآن پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بشارات بائیل پر ، مولانا جلال الدین صاحب نفس نے جہاد فی القرآن پر بیش قیمت مقالے خاص تیاری کے بعد پڑھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ شائع بھی ہوئے غالباً یہ تینوں تو ضرور شائع شدہ ہیں۔بیرون جماعت دوست بھی جو ہمارے ساتھ تعاون کرتے۔اس سرکل میں شامل ہوتے اور مقالے بھی پڑھتے اور ایک خوشگوار اور مفید علمی و دینی تحقیق کا سلسلہ باہمی ادب اور تعاون کی شکل میں جاری رہتا۔اس سٹڈی سرکل میں خادم صاحب نے نہایت عمدہ مقالہ پڑھا۔ان کو جب دعوت دی گئی تو مجھے خیال ہوا خادم صاحب کی طبیعت کے لیے بحث کا میدان جس میں ترکی یہ ترکی جواب دینا ہوتا ہے شاید انہ یادہ موزوں ہو۔سٹڈی سرکل کا ماحول ان کے لیے زیادہ موزوں نہ ہو۔کیونکہ اس میں نسبتا + ٹھنڈے طریق کی ضرورت تھی۔اور کچھ رسمی قسم کے علمی طریق کی جس کی ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی علمی باتیں بھی بیان کی جائیں جن کا کسی جذباتی اور دوقتی بحث سے زیادہ تعلق نہ ہو۔خادم صاحب نے کہا