تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 716 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 716

سے پہلے بھی اور وہاں کے قیام کے دوران میں بھی تبلیغ اور اشاعت کے کاموں سے دلچسپی تھی۔جب میں واپس آیا تو میں سب سے گہرا اثر یہ لے کر آیا کہ سلسلہ کے پڑھے لکھے نوجوان ایسے ہوں جو انگریز کی کلیوں کی تقسیم سے بھی بہرہ ور ہوں اور عربی اور اسلامی علوم سے بھی خوب واقف ہوں تا بہ مشرقی و غربی عوم کا اجتماع جو ہمارے سلسلے کا امتیاز رہا ہے۔قائم رہے اور آئندہ ترقی کرتا چلا جائے۔واپسی پر حضور ایدہ اللہ مبصرہ العزیز کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ باتیں کرنے کا موقعہ بھی ملا۔حضور ایدہ اللہ لاہور میں قیام فرما تھے۔اور ماڈل ٹاؤن میں مکرمی تور بدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کو تھی میں فروکش تھے ایک مجلس میں دو تین طالب کم نمایاں نظر آئے۔میں نے اس موضوع پر حضور کی خدمت میں کچھ گذارش کرد بھی مفتی۔اس مجلس میں اشابہ کافی تھا میں نے کہا کاش ! کالجوں میں پڑھنے والے نوجوان بھی سلسلہ کے علوم میں ایسے طاق ہوں۔جیسے کوئی بڑے سے بڑا مبلغ میں نے اس خیال کو پھر پیش کر دیا۔میرے فقرے میں کچھ بے اطمینانی تھی حضور ایدہ اللہ نے سنتے ہی مجلس میں ایک نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔اور کہا آپ انہیں نہیں جانتے با حضور کے اشارے میں میرے فقرے کا جیتا جاگتا جواب تھا۔یہ نوجوان جو گفتگو کے لحاظ سے بڑا ذکی اور زمین ، ایک عجیب خود اعتمادی اور اولوالعزمی لیے ہوئے تھا۔گورنمنٹ کالج کا سرخ بلیز پہنے ہوئے۔چھوٹی چھوٹی ڈاڑھی۔بڑی بڑی آنکھوں والا ہمارا عبد الرحمن خادم تھا۔جسے قرب سے اور بار بار لٹنے اور جس کی تقریہ اور تقریر کو سنے دیکھنے کے مواقع مجھے بار بار ملنے والے تھے۔خادم صاحب کو دیکھتے ہی میرا اپنا حوصلہ بڑھ گیا۔پھر کیا تھا۔لاہور میں کئی سال ان کی تقریروں اور تحریروں کے غلطے ہوتے رہے اور ہر روز کوئی نیا محاذ کوئی نئی فتح ، انہی دنوں کی بات ہے موچی دروازے کے باہر ایک مشہور مناظر کو خادم صاحب نے (اس طالب علمی کے عالم میں (!) للکارا۔اور ایسا ساکت کیا کہ سلسلے کے مخالف بھی، نہ صرف محسوس کر گئے۔بلکہ منہ سے مان گئے کہ ان کے مولوی صاحب سے کچھ نہیں بنا۔اس کے بعد میں نے خادم صاحب کو لگنے میں مصری شاہ میں اور کئی دوسری جگہ کیثیت مناظر دیکھا اور بحیثیت رونق مجلس اور لیکچرار تو بے شمار جگہ۔ان کی ایک نہایت ہی کامیاب تقریرہ سیرت کے موضوع پر گورنمنٹ کالج لاہور میں اس زمانے کی مسلم ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہوئی۔جسے سن کر کالج کے مسلمان غیر مسلمان پر وفیسر دنگ رہ گئے۔وہ تقریبہ ایسی سحر انگیز تھی کہ اس کے بعد ایسی تقریروں کا سلسلہ بند ہو گیا۔