تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 715
امیر رہے۔اور اپنی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے رہے۔محرم خادم صاحب کے رگ وریشہ میں احمدیت رچی ہوئی تھی۔حضرت۔۔۔۔۔۔خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی تھے۔اور ان کی عالی مرتبہ شان کے خلاف کوئی نازیبا کلی شنا گوارا نہ کرتے تھے۔۱۹۴۶ء میں ایک دن میں بار روم گجرات میں داخل ہوا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ بار روم میں ایک شور بہ پا ہے۔خادم صاحب کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔جس سے ایک ہندو وکیل کو بے تحاشا ما ر ہے ہیں۔تمام ہندو اور مسلمان وکلاء سہمے ہوئے بیٹھے ہیں اور کسی کو جرات نہیں پڑتی کہ وہ اس ہند و وکیل کو خادم صاحب کے پنجہ سے چھڑائے۔خادم صاحب نے اس قدریہ مارا کہ اس کے سر سے خون جاری ہو گیا۔اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔وکلاء نے بڑی مشکل سے اسے اٹھایا اور دوسرے کمرہ میں پہنچایا۔دریافت کرنے پر خادم صاحب نے بتایا کہ اس نیت نے مسلمان وکلاء کے سامنے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات استعمال کیے تھے مین کی وجہ سے انہوں نے اسے پیٹا ہے۔تاکہ آئندہ کوئی ہندو وکیل ہماری غیرت کا امتحان لینے کی جرات کر سکے۔محترم خادم صاحب جہاں ایک بہترین مقر را در مناظر تھے۔وہاں ایک کامیاب وکیل بھی تھے۔اور مقامی بار میں نہایت عزت و احترام سے دیکھے جاتے تھے۔آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔آپ ایک مخلص اور قابل فخر دوست تھے۔طبیعت نہایت شگفتہ اور بذلہ سنج واقعہ ہوئی تھی۔وہ مجلس کی رونق اور سنگار تھے تحریم قادم صاحب مرحوم و مغفور کو سب سے بڑا خراج عقیدت جو نونا لان جماعت پیش کر سکتے ہیں یہ ہے کہ وہ ان کی قابل رشک روایات کو زندہ رکھیں اور اپنے اندر قدمت دین کا سچا جذبہ پیدا کریں۔بکوشید اسے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بہار رونق اندر روضه ملت شود پیداب محترم جناب پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اسے سابق امیر جماعت احمدیہ لاہور یکی ۱۹۲۹ء میں انگلستان سے دو سال مزید تحصیل علم کے بعد واپس لاہور لوٹا۔مجھے انگلستان جانے غیر مطبوع