تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 58
۵۸ نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی اولاد کو ایسا کیوں کہا جاتا ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ادھر تو لکھتے ہیں کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں اور ادھر آپ کی اولاد کو مباہلہ کا چیلنچ دیتے ہیں یہ مباہلہ کا بیلیم آپ نے اس لئے دیا کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اسلام اور مسلمانوں کی تنظیم اور ان کی تقویت کے لئے کھڑے ہوئے تھے اگر آپ کی اولاد میں سے کوئی شخص اس تنظیم کو توڑنا چاہتا ہے تو وہ ہرگز کسی ہمدردی کا ستحق نہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے دوبارہ احباء اور مسلمانوں کی تنظیم اور اُن کے اتحاد کے لئے سبوت ہوئے تھے اور یہی ایک قیمتی یادگار ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے اگر تم اس اتحاد کو توڑنے لگے تو تمہاری خدا تعالیٰ کو کیا پرواہ ہو سکتی ہے احمدیت نے دنیا میں پھیل کر رہنا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے تین سو سال میں احمدیت ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔لیکن اگر احمدیت کی تنظیم ٹوٹ جائے تو تین سو سال چھوڑ کیا تین ہزار سال میں بھی احمدیت غالب آسکتی ہے ؟ کیا تین لاکھ سال میں بھی احمدیت غالب آ سکتی ہے ؟ حمدیت کی تنظیم ٹوٹ جائے تو چند دنوں میں ہیں احمدیت ختم ہو جائے گی اور عیسائی مصنف اپنی کتابوں میں لکھیں گے کہ قادیان میں (نعوذ باللہ) ایک کذاب پیدا ہو ا تھا جو بڑے بڑے دعوے سے کر کھڑا ہوا مگر تھوڑے دنوں میں ہی اس کا بیڑا غرق ہو گیا۔اور اس کی جماعت کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا یہ بد نیست نے ایسے ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور نے انہیں دنوں بتایا کہ :۔" حب ناریان پر مہندوؤں نے حملہ کیا تھا یہ اس وقت پہنچیں مار رہے تھے اور پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ خلیفہ کی ڈبائی ہے ہمیں یہاں سے جلد نکالو اب یہاں امن سے لیس گئے تو وہی لوگ اس خلیفہ کے خلاف ہو گئے وہ یہ بھول گئے کہ میں ان میں سے ایک ایک آدمی کو لاریوں میں بٹھا کر ہنڈوں سے بجالایا تھا اور ان میں سے کسی کو میں نے پیدل نہیں پہلے دیا تھا۔بلکہ میں نے حکم دے دیا تھا کہ کوئی شخص پیدل چل کر نہ آئے چنانچہ جن لوگوں نے میری بات مان لی وہ لاریوں میں مجھ کہ لاہور پہنچ گئے اور جنہوں نے میری بات