تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 711
794 فطری طور پر خادم صاحب شگفتہ مزاج تھے۔مگر طبیعت پر مضبط متھا۔شگفتگی اور کرختگی حسب زندہ دلی حالات کچھ اختیاری تھی۔ان کے بے تکلف دوست اور ان کے ایوان ظرافت کے تحمل کے زائرین ان کی اس سیرت کے بجد مدارج اور قائل ہیں۔کہتے ہیں۔دم سانہ دوستوں کی ہلکی پھلکی محل میں وہ ٹھیس کا سنگار تھے۔مجلس پر چھا کر ہر ایک کے وہی میر جمع دل ہوتے۔اور ہاتف غیبی سے تائید یافتہ۔اپنے علم وفضل کے دامن سے ظرافت کے ہلکے پھلکے پھول اٹھاتے اور خاص مشار الیہ پر اس انداز سے پھینکتے۔کہ پھول لگے مگر کانٹا نہ چھے۔یہ پیسے ہے کہ لطیف ظرافت ہی صرف صحیح انفر ظرافت میں داخل ہے۔یعنی ایسی ظرافت کہ جس کو کثافت ذہنی یا می خاطر نے نہ چھیڑا ہو۔اور جو روح کے پروں میں نامعلوم طور پر گھس کر بہجت آگین ہیجان۔اور وجدان پیدا کرے۔باقی سب " - درد اور بار خاطر جولانی طبع اور جودت میں قدرت نے خادم صاحب کو ایک وافر حصہ دیا تھا۔اس کے ساتھ علم وفضل کا آئینہ اس حسن کو دوبالا کرنے والا تھا خواص چھوڑ عوام جن کے ساتھ بے تکلفی تھی۔وہ ان کی اس سیرت کو بحرت تمام یا دکر کے روتے ہیں۔مناظرات ومباحثات میں بھی ان کی اس سیرت کا یہ تو بے ساختہ جھلک اٹھتا تھا۔مگر ضبط اور نفات کو کبھی ہاتھ سے نہ دیا۔ایسی باریک چوٹ کرتے تھے۔کہ دشمن کھسیا نہ ہو کہ دم بخود ہو جاتا اور ان کی یہ بے ہراس دلجمعی اور شگفتگی جو علامت کامرانی اور کامیابی ہے۔سامعین کے نزدیک ان کی فتح کی دیل ہوئی۔لوکل بار روم ہی ان کی اس سیرت کی زیادہ رموزدن جولان گاہ تھی۔وہاں برابہ کی چوٹ مفتی مگر ان کی فوقیت مسلم ہے۔خادم صاحب نے اپنے ذوق کی مناسبت سے ریڈیو لاہور پر ایک نظریہ جس کا غائبا عنوان " عدالتوں میں نوک جھوک، تھا کی تھی۔بہت دلچسپ تھی۔خالص دوستی کا جذبہ ایک ممتاز شرف ہے اور انسانیت کا نہ یور خادم صاحب کی دوستی کا رنگ خود فری ناکس کا دوست ہے اور نہ وہ دوستی کے قبیل۔نہ جہاں تک میں نے خادم صاحب کو دیکھا ہے وہ دوستی کے معاملہ ہیں۔ایک رقیق القلب اور رنگ پیر در انسان تھے۔ابتدائی طالب علمی کے زمانہ سے اب اخیر تک اپنے قدیم دوستوں کے ساتھ