تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 710
ہوں۔میں یہاں ان کی طبیعت کے استقلال کا ایک واقعہ ہو بہت کے لیے سبق آموز ہے۔بیان کرتا خادم صاحب کے والد بزرگوار حضرت ملک برکت علی صاحب سال ۱۹۵۲ء میں فوت ہوئے تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام کے رفیق اور موصی تھے۔ان کی وصیت کا حساب۔ان کی وفات پہ فوراً بے باق کہ دیا گیا تھا۔لیکن باوجود اس کے خادم صاحب نے اپنی اس خواہش کے تابع کہ اپنے والد مرقوم کی قبر یہان کو دعا کرنے کا موقعہ حاصل رہے۔ان کی میت کو اما نتا صندوق میں گجرات میں ہی دفن کرایا۔اور قبر اندر سے پختہ اینٹوں کی اس طرح خرابی بنوائی گئی۔کہ صندوق کو مکن طور پر کم نقصان پہنچے۔اور جب میت قادیان مقبرہ بہشتی میں دفنانے کے لیے جانی ہو۔تو بآسانی قبر سے وہ برآمد ہو سکے۔اس کے بعد سال ۱۹۵۲ ء سے اپنی وفات تک ان کا بلا تساہل اور بلا مبھول چوک یہ معمول رہا۔کہ سوائے کسی الہ مجبوری کے وہ ہر جمعہ پڑھانے کے بعد براہ راست بلا لحاظ شدت موسم خواہ بارش ہو بلا یا کڑا کے کی سردی یا گرمی جس کے لیے وہ چھتری سائیکل پر ساتھ رکھتے تھے۔پہلے وہ قبرستان جاتے اور اپنے والد مرحوم کی قبر پہ دعا کر کے گھر واپس لوٹتے۔کہنے کو یہ بات ایک معمولی بات ہے۔لیکن اس مداومت اور استقلال پر جب فی زمانہ عام انسانی غفلت اور تساہل اور والدین کے احسانات سے خود کش فراموشی کو سامنے رکھتے ہوئے غور کریں۔تو یہ ایک ایسا کارنامہ ہے۔جو صرف ایسے مجاہد نفس سے صادر ہو سکتا ہے۔میں کو اللہ تعالیٰ پر اور عالم معاد پر کامل یقین کے ساتھ والدین کی محبت میں روح کی تانگی اور روحانی زندگی بھی حاصل ہو۔دنیوی ذاتی معاملات ہیں جہاں تک میں نے ان کو پا یا ہے۔وہ ہمیشہ آپیس کے معاملات میں مقدمہ بازی جھگڑا یا فساد سے بچتے تھے۔گویا ان کے نزدیک اس میں تضیع اوقات وزیر کے علاوہ تضیع اخلاق کا بھی خطرہ تھا۔ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی۔کہ کسی نہ کسی طرح کسی قدر نقصان یا حجر رج کے ساتھ بھی ایسے معاملات کا تصفیہ ہو جائے۔کہ دل کی پریشانی سے آدمی جتنا بچے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن دینی معاملات میں ہیں یہ نہیں کہہ سکتا۔کہ اس معیار کو وہ سامنے رکھتے تھے۔بلکہ وہ ہمیشہ اختلافی معاملات یا مسائل کو غائت درجہ حل کرنے یا کامل تصفیہ تک پہنچانے کی کوشش نہیں لگے رہتے تھے اور وہ یہ ذوق اور شوق بکمال استقلال کرتے تھے۔