تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 709 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 709

۶۹۴ الرائے اور پبلک کے معزز طبقہ میں اپنی اصابت رائے کی بدولت ایک ممتاز شخصیت کے مالک تھے ان کا یہ اثر ورسوخ اور قانون دانی ایک ایسا سرمایہ تھا۔جس سے ضلع کی بیرونی جماعتیں اور دیگر احمد یہ احباب متمتع ہوتے تھے۔اور ان کے ممنون احسان تھے۔اور اس کا جماعت اور نظام سے وابستگی پر بہت نیک اثر تھا۔وہ چونکہ لحاظ نمونه ایثار و قربانی اور تیز عالم دین اور مبلغ کی حیثیت سے تمام احمد می افراد میں قابل احترام و عزت تھے۔اس لیے ان کو ایک ایسا اثر در سوخ اور وقار حاصل تھا۔جس کے طفیل وہ مرکز سے آئی ہوئی ہدایات کے مطابق نظام سلسلہ کی بہتر طور پر خدمت سر انجام دے سکتے تھے اور دیتے تھے۔ان کے چودہ سالہ عہد امارت میں جہانتک میں نے سُنا ہے اور جیسا کہ مجھ کو معلوم ہوا ہے۔کبھی بھی کوئی ایسا اہم معاملہ پیش نہ آیا۔میں کو انہوں نے یہ وقت خود نہ سنبھال لیا ہو۔یا جس کو خود ہی خوش اسلوبی کے ساتھ طے نہ کیا ہو۔خادم صاحب راسخ العزم پختہ مزاج اور مستقل طبیعت کے انسان تھے استقلال طبیعت اگر ہم یہ کہیں کہ وہ اپنی رمن کے بچتے تھے۔تو شاید یہ کہنا کی طبیعت کے متعلق زیادہ صادق المحال ہو گا۔لیکن بنظر غائر اس بارہ میں بھی ان کی طبیعت کے دو رخ نظر آتے ہیں دنیوی یعنی معاشرتی معاملات میں جب وہ کسی بات پر بھیس کو وہ اپنے خیال کے مطابق صحیح سمجھتے۔بعض اذقات ایسے بعد اس بات پر جم جاتے۔کہ پھر مصلحت بینی یا مصلحت اندیشی کے طور کے دلائل ان پر بہت کم کارگر ثابت ہوئے۔لیکن دینی معاملات میں ان کی طبیعت کا رنگ جہاں تک میں نے دیکھا ہے۔اس سے مختلف تھا۔میری مراد اس سے ان کے عقائد کے بارے میں ان کے استقلال کے متعلق ذکر کرنا نہیں ہے۔کیونکہ اپنے عقائد میں وہ بفضلہ تعالی ایسی مضبوط چٹان تھے۔جس سے ہر قسم کی مخالفت کی پر جنون دیوانہ لہریں جب ٹکراتیں۔تو ہمیشہ اوندھے منہ بل کھاتی ہوئی واپس ہوتیں۔بلکہ میری مراد یہ ہے۔کہ وہ عقیدہ کے مخالف لوگوں سے بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں سے ہمیشہ تلطف اور تالیف قلاب کو کام میں لاتے۔اور بعض حالات میں ان کے احساسات کو اپنے احساس پر ترجیح دینے میں بھی مصلحت سے کام لیتے۔اس میں مال اندیشی کا محرک دوسروں کی دینی بھلائی ہوتی تھی۔ویسے عام معامات میں وہ طبیعت کے کھرے اور صاف گو تھے۔جو بات وہ کسی کو کہتے اس پر خود اپنی و در اندیشی کی بدولت جسے رہتے۔اور اس سے انحراف کو نہ اپنے لیے اور نہ کسی اور کے لیے پسند کرتے۔