تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 708 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 708

۶۹۳ لیکن قرآن شریف کا درس دینا انہوں نے اس سے پہلے ۱۹۴۰ء۔اء سے شروع کر دیا تھا۔میرے محترم جناب چوہدری عالم علی صاحب بشن حج ریٹائرڈ جو ان دنوں گجرات میں سینٹر سب جج تعینات تھے۔اور ۱۹۴۴ء تک جماعت احمدیہ کے امیر شہر بھی رہے تھے۔چند روز ہوئے کہ خادم صاحب مرحوم کی والدہ صاحبہ اور ان کی محترمہ اہلیہ صاحبہ کی خدمت میں تعزیت کے لیے تشریف لائے۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خادم صاحب کو قرآن شریف کے فہم میں ایک خاص ذوق عطا فرمایا تھا۔وہ نہایت محنت اور شوق و ذوق سے درس قرآن مجید دیا کرتے تھے۔اور بعض اعلیٰ طبقہ میں سے غیر احمدی تعلیم یا فتہ بھی درس میں التزاما شامل ہو کہ استفادہ کرتے تھے۔۱۹۴۴ء کے بعد نہایت ہی اہتمام کے ساتھ سوائے ایک دو سال کے جبکہ وہ اپنی شدید بیماری کی وجہ سے درس نہ دے سکے وہ ہر سال رمضان المبارک کے مہینہ میں پورے قرآن مجید کا درس ختم کیا کرتے تھے۔علاوہ ازیں اور اوقات میں بھی وہ قرآن شریف کا درس کئی سالوں تک دیتے رہے۔سال گذشته ۱۳۷۶ ھ مطابق ۱۹۵۷ء کے ماہ رمضان المبارک کا جب درس شروع کیا۔تو اس کے پہلے خطبہ جمعہ میں جماعت کے احباب کو درس سُنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا۔کہ شروع میں مجھے اپنی بیماری اور ناتوانی کی وجہ سے کچھ تردد تھا۔کہ درس دینا شروع کروں یا نہ کروں۔لیکن آخر یہ سوچ کر کہ پھر شائد یہ موقعہ ملے یا نہ ملے۔میں نے درس دینا شروع کر دیا ہے۔آپ لوگوں کو بھی چاہیئے کہ فائدہ اٹھائیں۔شاید پھر آپ کو یہ موقعہ ملے یا نہ ملے۔اب ایسا معلوم ہوتا ہے۔کہ نوجوان منتقی۔امیر جماعت کے منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ مشیت ایزدی کو لبیک کہہ رہے تھے۔ایسی کرامت ان کے حصہ میں ہی آتی ہے۔جو اپنی زندگی میں دین کو دنیا پر مقدم کر کے تادم اخیر صادق العقول ثابت ہوتے ہیں۔خادم صاحب کے عہد امارت کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے۔اور اس لیے قابل ذکر ہے کہ ان کے عام عہد امارت میں عام طور پہ مرکز سے مبلغ یا مناظر منگوانے کی کم ہی ضرورت پڑی۔وہ ان تمام ضروریا پر خود حادی تھے۔گویا اپنی زیبہ امارت جماعتوں کے انتظامی نگران کے علاوہ ایک عالم دین یا مبلغ کی حیثیت سے بھی مذمت کرنے کی خصوصیت ان کو حاصل تھی۔علاوہ ازیں ضلع کے صدر مقام پر ان کی موجودگی جماعتی وقار کا موجب تھی۔عالم تھے اور صائب