تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 707 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 707

ظاہر ہے۔خادم صاحب کا سالانہ جلسہ کی سیج پر سے مقریرین میں انتخاب پہلی دفعہ سال ۱۹۳۶ء میں ہوا۔جبکہ ان کی تقریر کا موضوع " وابستگان خلافت کی منکران خلافت پر فضیلت" تھا۔اس کے بعد متواترہ ۱۹۵۶ء تک (۱۹۵۷ء کے جلسہ میں بوجہ بیماری شامل نہ ہوئے اور ۳۱ دسمبر ۱۹۵۷ ء کو فوت ہو گئے ) وہ مغربی ہمیں انتخاب کیے جاتے رہے۔ان کا یہ متواتر انتخاب ان کے علم نافع الناس ان کے ملکہ تقریبہ ان کے مکارم اخلاق اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ فدایا نہ تعلق اور خدمت کے والہا نہ جذبہ کا ثبوت ہے۔جلسہ پر سامعین ان کی تقریر سننے کے خاص طور پر شائق ہوتے تھے۔اور تقریبہ کی پسندیدگی کا اعلان ان کی طرف سے بکرت وجدانی نعرہ ہائے تکبیر سے کیا جاتا تھا۔انہوں نے صحیح معنوں میں اپنے آپ کو سلسلہ کی خدمت کے لیے وقف کیا ہوا تھا۔اوّل سے آخر تک اس عہد پر کہ دین کو دنیا پر مقدم کردونگا۔قائم کرو کہ خدمت دین بجالاتے رہے۔کبھی کوئی روک اس راہ میں الف کے لیے روک نہ بنی۔اور نہ ہی کوئی مشکل مشکل وہ بہ خدمت بغرض ثواب اور خوشنودی اور رمضان موٹی کریم بصدق دل اور مومنانہ جذبہ اور عزم کے ساتھ سرانجام دیتے تھے۔اور جس طرح ان کی زندگی ئے کے شروع میں یہ جذبہ کا فرما تھا۔اسی طرح ان کے دم واپسین تک وہ ان میں موجزن رہا۔امیر جماعت شہر دو ضلع گجرات کی حیثیت سے بھی خادم صاحب کا ذکر بعض ان کی خصوصیات کی وجہ سے ضرور کی معلوم ہوتا ہے۔خادم صاحب سال ۱۹۴۴ ء سے برا برا میر جماعت شہر گجرات اور بعد میں امیر ضلع گجرات بالاتفاق بلا کسی خفیف تر دریا امکاناً شکایت کے منتخب ہوتے چلے آئے ہیں۔اس کی وجہ ظاہر ہے خادم صاحب کا مقام کیا بلحاظ ایثار وقربانی اور کیا لحاظ معلم و فضیلت اور کیا بلحاظ خلوص و نمونه پر مهرگاه می اتنا اونچا تھا۔کہ کسی کے دل میں ان کے خلاف کوئی تر دو یا شکایت پیدا ہی نہ ہو سکتی تھی۔ان کی خدمات کی پوری تفصیل کا پیش کرتا نہ میرا مقصد ہے۔اور نہ ہیں کہ سکتا ہوں۔لیکن میں صرف چند موٹی موٹی خصوصیات بطور ذکر بقائے خیر کے عرض کروں گا۔وہ عالم دین تھے اور انہوں نے بے دریغ اپنی صحت و توانائی کا لحاظ کیے بغیر اپنے اس رزق خداداد کو جماعت پر جو ان کی زیر تربیت تھی۔فریج کیا۔وہ امیر شہر گجرات تو ۱۹۴۲ ء میں منتخب ہوئے