تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 706
۶۹۱ گاوہ زمانہ سولہ سترہ سالہ لڑکپن کا زمانہ تھا کہ جب سے میں نے ان کو نہایت قریب سے دیکھا۔وہ اسوقت انروانی پاس کر کے این اے میں زمیندارہ کالج گجرات میں پڑھتے تھے۔گر اپنی تبلیغی لگیں۔ذاتی سنجیدگی اور خود نبی کی وجہ سے اس وقت بھی وہ خاندان میں غیر معمولی طور پر عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ان کو اس وقت بھی صرف علمی باتوں میں دلچسی تھی اور علمی مجلسوں میں نہایت ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور سکول سے باہر تقریبا سارا وقت کتب بینی یا تبلیغی سرگرمی میں صرف کرتے تھے۔اپنی عمر کے تقاضا کے مطابق وہ کسی ایسے ماحول میں شاذ و نادر ہی شامل ہوتے تھے۔جہاں ان کے وقت کا ضیاع ہو۔یا حیاں، اخلاقی ناہمواری کا امکان ہو ان کا شغل مطالعہ اور بالخصوص اپنے سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ تھا۔ان کو احمدیت کی تبلیغ کی ایک فطرتی لگی تھی۔اس لگن کے تحت وہ نہایت درجہ ذاتی کا دش و فکر سے بہت دقیق اور گہرا مطالعہ ہر قسم کے ضروری لٹریچر کا کرتے تھے۔محض ان کا ذاتی مطالعہ اور سعی و کوشش ہی ان کی علمی ترقی اور کمال کا موجب تھے۔اور یہی وجہ ہے۔کہ ان کے کہ کیٹر میں خود داری اور خود اعتمادی بدرجہ کمال تھی۔جو ہر موقعہ پر ایک جو ہر نمایاں کے طور پر ان میں چمکتی تھی۔انہوں نے اس بو ہر صافی کی بدولت اپنے گرد ایک ایسا ماحول مافی پیدا کر لیا تھا۔کہ جس کی وجہ سے ان کی تربیت کے بارہ میں بھی ان کے والد صاحب بزرگوار فرمایا کرتے تھے۔کہ ان کو کبھی پدرانہ نگرانی یا ناصحانہ تشویش لاحق نہ ہوئی۔گویا اللہ تعالیٰ نے خادم کی فطرت میں ہی یہ جو ہر ودیعت کیسے ہوئے تھے۔جو بلا خارجی اسباب استمداد اپنے وقت پر غنچہ گل کی طرح کھلتے گئے اور ریاضی احمدیت میں ظہور پذیر ہو کہ مہکنے لگے۔خادم صاحب کی احمدیہ پاکٹ بک ان کے مختلف مذاہب کے مذہبی لٹریچر کے وسیع اور گہرے مطالعہ پر شاہد ہے۔پہلی پاکٹ بک میرے مسلم کے مطابق انہوں نے جبکہ ان کی عمر ۱۷ ۱۸ سال بھی مرتب کی تھی۔وہ پھوٹی تقطیع پر اسم با مسئے مختصر پاکٹ بک تھی۔بعد میں اس کی نظر ثانی کرتے رہے اور آخری پاکٹ بک جس کے شروع میں ان کی تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔اور میں پر ایک نظر پڑتے ہی دل میں غم و اندوہ کے احساسات تازہ ہو جاتے ہیں۔اسی کے چھٹے ایڈیشن پر مشمل ہے۔یہ اب ۲۰۰ صفحات کی ایک ضخیم کتاب ہے۔مؤلف کی محنت کوشش اور اس کے وسیع مذہبی مطالعہ اور ناقدانہ نظر کی گواہ تو یہ خود پاکٹ بک اور اس کا قیمتی اور سفید مواد ہے۔اور اس کی افادیت اور قبولیت عامہ اس کے بار بار چھینٹے اور حجم میں متواتر اضافہ سے