تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 705
ان کی طفولیت فضول ہو ولعب بے مقصد کھیل کو د نا ہموار سنگی اور ضروری محنت اور مشقت سے جی چرانے کے عیوب سے پاک تھی۔ابھی وہ اس عہد غیر معتدل سے پورے طور پر نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ ان کو اہم دینی کتابوں اور اپنے سلسلہ احمدیہ کے روح پر در پاکیزہ متکی لٹریچر کے مطالعہ کا ہمہ تن مصروف اور خود فراموش شائق پایا گیا۔جس کی بدولت اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے عالم جوانی میں انہوں نے اپنے نفس کو تہذیب کامل سے آراستہ کر لیا۔گویا کہ عنفوان شباب سے ہی ذاتی ذمہ داری کا احساس اخلاقی قدروں کا احترام دا کرام۔ان کا شعار اور طرہ امتیازہ تھا۔گو عمر میں تو اس وقت وہ پھوٹے تھے مگر علم و عقل و دانش اور اخلاقی میز انوں اور ذمہ داریوں کے جائزہ اور محاسبہ میں انکا نفض اکثر سال خوردہ لوگوں سے بہت اونچے مقام پر پہنچ گیا تھا۔یہ حقیقت ہے۔کہ نہ کسی نے ان کی مضنگی دیکھی۔اور نہ کبھی کسی نے اطور کے لحاظ سے انکو طفل پایا۔شروع سے ہی ہمیشہ ایک مرد عاقل و عاقبت اندیش کی مانند علی میاس اور مذاکرات اور پاک و بے عیب صالحانہ محبتوں میں رہ کر تحصیل علم کا شوق اور اخلاقی مذہبی مسائل پر از خود غور و فکر کرنا ان کا مسلک زندگی رہا۔دہ گلستان احمدیت میں وہ عندلیب خوشنوا تھے۔جس کے چچیوں کی یاد اور جس کی نغمہ سیرائیوں رسالانہ جلسہ کی تقریروں کا محفوظ ریکارڈ ہمارے لیے ایک مضراب الم سے کم نہیں۔اس سے ہماری پر رگ نا تواں اب بیتابانہ پھڑک اٹھتی ہے۔اور ان کی دید و گفتار کی حسر نہیں اور ارمان ایک سو بان روح ہیں کہ جس سے ان کے محبوں اور قدر دانوں کا ایک کثیر گروہ بے چین رہتا ہے۔ان کی زندگی صادق القول احمدی، دین کو دنیا پر مقدم کرد نگا ہ کی مثالی زندگی تھی اور یہ قول ہی ہے نبو در اصل احمدیت کی جان ہے۔اور اس کے قیام کی غرض وغایت۔ہ احمدی تو بلا واسط با بالواسط ان کو جانتا ہے ان کی مفارقت کے غم میں ان کیلئے بدرگاہ عالی دعاگو ہے۔کہ ان کو اللہ تعالی اپنے جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائی دراصل اس کے غم کا حقیقی مداوا ہی اب یہ دعا ہے۔سال ۱۹۲۷ء میں میری پہلی بیوی کے مرنے کے بعد میری دوسری شادی بزرگوارم حفر ملک برکت علی صاحب کی بڑی لڑکی جو ملک عبد الرحمن صاحب خادم کی حقیقی بڑی ہمشیرہ ہیں کے ساتھ ہوئی تب سے عزیز موصوف کے دم واپسیس یعنی ۱۳۲ دسمبر ۱۹۵۷ ء تک ان سے بہتر تعلقات ان کے خاندان کا ایک فرد ہونیکی حیثیت سے متواتر محبت اور شفقت اور باہم اکرام و تکریم کے رہے ہیں۔اس طرح جب اکیس سال پیچھے جائیں توخادم صاب