تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 700
۶۸۵ ملک عبد الرحمن صاحب خادم بھی ۲۰ سال کی عمر میں فوت ہوئے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ تبلیغ حق کے میدان میں ان تینوں اصحاب کا اندازہ بھی کم و بیش ایک جیسی ہی مقایعنی وہی غیر معمولی جوش و خروش وہی تیغ عریاں کا رنگ دہی بلا خوف لاحتہ لائم اظہار حق کا انداز مگر جودا دل ہے وہ اول ہے سلے تأثرات حضرت ملک صاحب کی عظیم شخصیت احمدی اور غیر احمدی حلقوں میں محبت واحترام کی نظر سے رکھی جاتی تھی جس کا کسی قدر اندازہ درج ذیل تاثرات سے ہوتا ہے۔-۱- حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب الف خادم صاحب مرحوم ایک بہادر مرد مجاہد تھے۔اور جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا تقریری اور تحریری تبلیغ کے میدان میں صف اول میں رہے۔اور مخالفوں کے مقابل پر گویا ایک برہنہ تلوار تھے اور عقائد صحیح میں ان کا قدم ہمیشہ ایک مضبوط چٹان پر قائم رہا اور اندرونی اور بیرونی مخالفت نے اُن کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آنے دی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ فضل الله المُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً (النساء: ٩٦) یعنی ہم نے دین کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو غیر مجاہد مومنوں پر بھاری امتیازہ اور بھاری درجہ عطا کیا ہے اس لیے امید ہے کہ خادم صاحب مرحوم کو اپنی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔مذ ہبی مباحثات کے میدان میں خادم صاحب کا تجود گو یا تو الجات کا ایک دیسی خزانہ تھا۔اور ان کی تصنیف احمدیہ پاکٹ بک ہمیشہ ایک یادگاری تصنیف رہے گی جیسا کہ میں نے حضرت عرفانی مرحوم کی وفات پر نوٹ لکھتے ہوئے ذکر کیا تھا سال ۱۹۵۷ء میں ہمیں بہت سے بزرگوں اور دوستوں کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے بلکہ عرفانی صاحب کے بعد بھی تین اور ممتاز بزرگ اور دوست بھی ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔چنانچہ عرفانی صاحب کی وفات کے دو دن بعد حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب نے کراچی میں وفات پائی۔سیٹھ صاحب مرحوم بہت مخلص اور ٹھوس اخلاص والے بزرگ تھے جنہوں نے اوائل زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا۔اور پھر سارا زمانہ بڑی وفاداری اور محبت اور اخلاص اور نیکی میں گزارا۔اس کے بعد مین جلسہ کے ایام میں محترم شیخ عبد الحق صاحب سابق نائب ناظر ضیافت کی وفات ہوئی۔شیخ صاحب مرحوم ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔اور بہت مخلص اور فدائی رنگ میں رنگین اور محبت کرنے والے تھے۔جن کے ذریعہ ضلع گورداسپور میں کثیر التعداد لوگ احمدیت کے نور سے منور ہوئے۔اور اب سال له روزنامه العضل ریوه ۵ جنور می ۱۹۵۸ وصت