تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 699 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 699

HAP پیغام کیا تھا دین حق کے ایک عظیم مجاہد کے دل کی دردناک پکار تھی۔سامعین رقت سے بھر گئے اور خادم احمدیت کو طلبہ میں نہ پاکر ان کا دل خون ہو کے رہ گیا۔جلسہ سالانہ ١٩٥٤ ء تو خدا کے فضل سے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو اگر اس دسمبر کی صبح کو حضرت ملک صاحب کا سائنس یکا یک پھول گیا اور قوت گویائی جواب دینے لگی۔اسی دوران حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین رآن سکندر آباد دکن) جلسہ میں شرکت کے بعد بغرض عبادت تشریف لائے اور ایک لمبی اور پر سوز دعا کرائی۔ایک بجے کے قریب حالت تشویشناک ہو گئی۔ڈیڑھ بجے آپ نے لمبا سانس لیا اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور احمدیت کا یہ پر جوش مبلغ اور سلسلہ کا نڈر اور بہادر سپاہی جو ہم سال تک شیروں کی طرح غراتا اور للکارتا رہا ہمیشہ کے لیے جُدا ہو گیا۔اِنَّا لِلهِ وانا الیه راجِعُونَ۔آپ کا تابوت اگلے روز موا دو بجے بعد دوپہر لاہور سے ربوہ لایا گیا۔۴ بجے بعد نماز عصر حضرت مصلح موعود نے مسجد مبارک کے عقبی میدان میں نماز جنازہ پڑھائی اور نعش کو کندھا دیا جنازہ میں خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد، بزرگان سلسلہ مثلاً حضرت نچو ہدری محمد ظفر اللہ خالصاحب اور دیگر کثیر تعداد احمدیوں نے شرکت کی چھے بجے آپ مقبرہ بہشتی کی سرزمین میں سپر د خاک کر دیئے گئے۔قبر تیار ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اجتماعی دعا کرائی یہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے تدفین کے بعد ایک نوٹ میں تحریر فرمایا :- تدفین کے وقت معلوم ہوا کہ ان کی عمر صرف ہم سال کی تھی۔اس وقت مجھے اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام یا دہ آیا کہ :- سینتالیس سال کی عمر میں کفن میں لپیٹا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم مغفور کی وفات کے قریب ہوا تھا۔اور اس الہام کا پہلا مصداق حضرت مولوی صاحب کی ذات والا صفات ہی تھی۔لیکن چونکہ بعض اوقات خدائی کلام میں تنوع ہوتا ہے اور ایک ہی الہام میں متعدد واقعات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے اس لیے اس الہام کا دوسرا جلوه قریبا ۲۵ سال بعد حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی وفات میں نظر آیا۔کیونکہ حضرت حافظ صاحب مرحوم بھی سینتالیس کی عمر میں فوت ہوئے تھے اور اب قریباً مزید اٹھائیس سال بعد ه الفضل ۳ ر جنوری ۱۹۵۸ و ما