تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 697
| تقریر فرمائی۔تقریر کے دوران جلسہ گاہ کی فضا بار بار نعروں سے گونجتی رہی۔یہ معرکہ آرا نظریہ آپ کی زندگی کی آخری تقریر تھی اگلے روز ۲۸ دسمبر کو سید نا حضرت مصلح موعود نے ہزار ہا کے مجمع میں مولانا جلال الدین صاحب شمس مولانا ابوالعطاء صاحب اور آپ کو خالد کا خطاب عطا فرمایا۔اگلے سال ۲۶ ستمبر ۱۹۵۷ء کو آپ کی بیماری تشویشناک صورت اختیار کر گئی۔داخل کرادیئے گئے۔اکتوبر کے پہلے عشرہ کے آخر میں حضرت مصلح موعود لاہور تشریف لائے تو حضور نے ہومیو پیتھی دوائیں تجویز فرمائیں اور پھر انہ راہ شفقت وہ دوائیں خود ہی منگوادیں۔نومبر کے آخر میں آپ تیزی سے صحتیاب ہونے لگے۔اب جلسہ سالانہ کے ایام قریب تر آگئے تھے آپ نے فیصلہ کیا کہ ۲۵ دسمبر کوں ہور سے روانہ ہو کر جلب سالانہ ربوہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی جائے لیکن مشیت خداوندی کو کچھ اور ہی منظور تھا ۲۴ دسمبر ک کی ایک آپ کی دائیں ٹانگ سخت متورم ہو گئی اور آپ ساری رات درد سے سخت بیقرار رہے۔۲۵ دسمبر کو آپ نے درد کی ناقابل برداشتہ کیفیت ہی میں اپنے محبوب آقا حضرت سیدنا المصلح الموعود کی خدمت اقدس میں اپنے ہاتھ سے حسب ذیل عریضہ لکھا :۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم میوہسپتال کمرہ عث سیدی دمولالی حضرت مصلح موعود اتم کم اللہ بصرہ العزیز السلام علينكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ تعالیٰ حضور کا حافظ و ناصر ہو۔حضور کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔اور اسلام اور احمدیت کی ترقی و فتوحات کے وعدے حضور کے ذریعہ اور حضور کی زندگی میں پورے فرمائے۔آمین میری اصل بیماری یعنی پلوریسی تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعاؤں اور توجہ سے ٹھیک ہو چکی محھتی۔۱۹ ، دسمبر ۱۹۵۷ کو ڈاکٹر پیر زادہ نے یہ کہدیا تھا کہ اگر آپ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں لیکن مناسب ہے کہ اختیا کا چند دن اور ٹھہریں۔اس خیال سے کہ مبادا دوبارہ پھیپھڑے کی جھلی میں پانی پیدا نہ ہو جائے۔راه اصل مکتوب میں امیرالمومنین کے لفظ تھے۔ناقل