تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 688
۶۷۳ یچ کر مسافروں اور بھوکوں کو کھانا کھلاتے رہے۔اپنے علاقہ کے اکثر غریب احمدیوں، یتیموں اور بچوں کے نیام دعام کا انتظام فرماتے اور تکمیل تعلیم تک طالبعلموں کی فیس بھی اپنی جیب سے دیتے تھے۔خاندان حضرت مسیح موعود کے ساتھ ایک والہانہ عقیدت مفتی عمر کے آخری ایام میں بوجہ بیماری و کمزوری ربوده نہیں جا سکتے تھے اس لیے ربوہ جانے والوں کو گلے لگا کر انہیں پر نم آنکھوں الوداع کہتے اور مرد ؟ فردراً خاندان کے افراد کا نام لے لے کہ انہیں السلام علیکم کا پیغام بھیجتے۔صوبیدار عبد الغفور خاں صاحب سابق نائب افسر حفاظت مصلح موعود کا بیان ہے کہ :۔- چونکہ میں اکثر ربوہ جاتا رہتا تھا اس لیے مجھ سے بہت خوش رہتے اور میرے لیے بہت دعائیں کرتے۔جب میں ربوہ سے واپس جاتا تو میرے ساتھ بار بار مصافحہ کرتے اور کہتے تم نے حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔ایدہ اللہ تعالیٰ سے مصافحہ کیا ہے اور سارا دن واقعات دریافت فرماتے۔مجھے اکتوبر ۱۹۵۶ء میں حضرت ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت عالیہ میں نائب افسر حفاظت کے طور پر طلب کیا گیا تو میں نے صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں اپنے جملہ واقعات پیش کیے۔جس پر صاجزادہ صاحب نے فرمایا کہ تم فوراً جاؤا در یہ معاملات خدا تعالی پر چھوڑ جاؤ۔یہاں کی تمام ضروریات ہم پوری کریں گے یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ تم کو ایسی خدمت کا موقعہ ملا ہے اس پر میں تو کل کر کے اس خدمت کے لیے چلا آیا ہے نواب اکبر یار جنگ صاحب سابق حج ہائیکورٹ حیدر آباد دکن روقات ۱۵ ۱۶ جون ۱۹۵۷ ء لعمر ۸ سال) حضرت نواب صاحب سلسلہ کے ایک نہایت مخلص اور پرانے مقتدر عالم ، صاحب اثر ورسوخ شخصیت اور اعلیٰ پایہ کے قانون دان تھے۔حیدر آباد ہائیکورٹ ہیں ان کے فیصلوں کو بطور نظیر اور مثال پیش کیا جاتا تھا۔سلسلہ کی تحریر ہی اور تقریری خدمات میں بھی آپ کا مقام بہت بلند تھا اور اپنے دنیوی وقار اور اعلیٰ حیثیت کو ہمیشہ دینی خدمات اور سلسلہ کی ترقی کے لیے استعمال فرماتے تھے۔بسا اوقات حیدر آباد کے امراء اور وزراء کو اپنے مکان پر مدعو کر کے پیغام حق ا الفضل ۲۹ مٹی ١٩٥٧ و مث : الفضل ۲۰ رجون ۱۹۵۷ء مره