تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 687
764 تھا کہ ان کو میری طرف سے لکھیں کہ اب یہیں آجائیں۔ڈرنے کی کون سی بات ہے۔دیار محبوب ہی ہے گھر یا اگر رخصت کا وقت بھی آگیا تو عین دلی خواہش کے پورا ہونے کے مترادف ہوگا۔چنانچہ وہ اپنی خوش قسمتی کے سایہ میں آیا اور اپنی مراد کو پہنچ گیا لیے اولاد مولوی شیخ عبد الواحد صاحب مجاهد چنین ، ایران ، دنجی دوسرے مخلصین سلس کا ذکر خیر ۱۹۵۷ ء میں کبار اصحاب مسیح موعود کے علاوہ سلسلہ کی کئی اور نہایت مخلص اور یگانہ روزگار شخصیات داغ مفارقت دی گئیں جن کا ذکر مختصر آ ذیل میں کیا جاتا ہے۔۱۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب آن ٹوپی مردان رصفات ۱۹ اپریل ۱۹۵۷ء) صاحبزادہ صاحب ۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفہ المسیح الاول کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے۔آپ محکمہ نہر میں مضعدار تھے۔نہایت جرمی اور پر توش داعی الی اللہ تھے آپ کے خلاف مخالفت کے شدید طوفان اٹھے۔خاصی جائیداد سے محروم ہونا پڑا۔کئی جگہ آپ پر پتھراؤ کیا گیا۔مگر آپ ہرا ابتداء میں قدم آگے ہی آگے بڑھانے گئے خدا نے مخالفین کا زور توڑ دیا اور اُن کے عمدہ نمونے سے کئی لوگ احمدی ہو گئے۔صاحب ردیا تھے، حکیم محازق بھی تھے اور ہمیشہ غریبوں اور ناداروں کا مفت علاج کرتے تھے اور معذوروں کے گھر پہنچ کر طبی امداد پہنچاتے تھے پہلی جنگ کے بعد انفلوئنزا کی وباء پھیلی تو آپ نے سینکڑوں گھروں میں جاکر علاج کیا۔صاحبزادہ صاحب مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے۔قبول احمد میت کے بعد انہیں اپنی خاصی جائیداد اور ملازمت سے محروم ہونا پڑا۔بایں ہمہ انہوں نے کسی مہمان یا غریب صاحبت مند کو خالی نہیں جانے دیا۔بعض دفعہ اپنے گھر کی قیمتی چیز فروخت کر کے حاجت مندوں کی حاجت پوری کر دی قیام پاکستان کے موقعہ پر آپ اپنی جائیداد به روزنامه الفضل ریوه ۱۳ جنوری ۱۹۵۸ و مث