تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 668
۶۵۳ میں غیر میبائعین کا فتنہ اتھاتو شیخ صاحب اس کے مقابلہ میں غیر معمول جوش کے ساتھ پیش پیش تھے بلکہ بعض اوقات انہیں روکنے کی ضرورت پیش آتی تھی غالباً یہ غیر مبالغین کے فتنہ کا ہی اثر تھا کہ عرفانی صاحب مرحوم اپنے زرق کے مطابق اپنی اولاد کو سمینہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ جب بھی جماعت میں کوئی اختلاف پیدا ہو تو تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت کا ساتھ رہتا کیونکہ ان کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ اپنی معلف وَمَعَ اهْلِك یعنی میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں خدا کرے کہ ہم اس خدائی وعدہ کے اہل اور قدرشناس ثابت ہوں۔اس سال یعنی سال ۱۹۵۷ ء میں جماعت کو کئی بار پرانے مخلصین کی وفات کا صدمہ پہنچا ہے چنانچہ سب سے پہلے جنوری میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب خدا کو پیارے ہوئے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گویا اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے اور محبت کے رنگ میں اکثر " ہمارے مفتی صاحب کہ کہ پکار تھے تھے اس کے بعد فروری میں حضرت ڈاکٹر ستیہ غلام غوث صاحب کی دنات جو گو یا بالکل ابتدائی رفقاء میں سے نہیں تھے مگر پھر بھی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کافی محبت پائی تھی اور وہ اپنی نیکی اور عبادت گزار می کی وجہ سے ان بزرگوں میں سے تھے جن کا دل گویا ہمیشہ مسجد میں لٹکا رہتا ہے۔پھر غائبا جون کے آخر میں حضرت بھائی چو ہدری عبدالرحیم صاحب فرت ہوئے ہو ابتدائی رفقاء میں سے تھے اور ان کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ عین جوانی کے عالم میں سکھ مذہب کو ترک کر کے اسلام اور احمد میت کو قبول کیا پھر نیکی میں ایسی ترقی کی کہ دہ صاحب کشف و رویا بن گئے اور اب سال کے آخر میں آ کہ حضرت عرفانی صاحب نے جماعت کو داغ جدائی دیا ہے۔وكل من عليها ذان ويبقى وجه ربك ذو الجلال ولا كرام حضرت مفتی صاحب اور حضرت عرفانی صاحب دونوں میری پیدائش سے بھی پہلے کے احمدی تھے اور حضرت بھائی صاحب نے غالباً میری پیدائش کے ایک سال بعد بعیت کی تھی۔البتہ حضرت ڈاکٹر صاحب غالباً ۱۹۰۰ ء کے قریب بیعت سے مشرف ہوئے تھے اللہ تعالیٰ ان سب فوت ہونے والوں بزرگوں کو اپنے فضل درحمت کے دامن میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو ان کے نقش نیم پر چلائے اور دین ر دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو آمین۔جیسا کہ سب جانتے ہیں اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تائی اور ممتاز رفقاء بہت ہی تھوڑے