تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 656
کی قدر کر کے میونسپل کے لیے پریس سپر نٹنڈنٹ کی حیثیت سے ایک معقول معاوضہ میں ملازمت میں لینا چاہا نگر میں نے شکریہ سے انکار کر دیا۔پھر مجھے اختبار جہاں نما کی آیڈ میری کا موقع ملا۔جو سر دار نارائن سنگھ صاحب نے جاری کیا تھا۔مگر افسوس ہے کہ مجھے بہت جلد اس سے الگ ہونا پڑا۔اور پھر کچھ دنوں تک امرتسر کے مشہور اخبار پنجاب کو ایڈٹ کیا۔اخبار دکیل کے قابل قدر پروپرائٹر شیخ غلام محمد صاحب ناصر مرحوم کی ہمیشہ خواہش تھی کہ میں وکیل کا چارج لوں مگر محض بعض امور میں اختلاف رائے اس میں مانع رہا اور میں نے پسند نہ کیا کہ اپنی ذاتی رائے کو چند مچیوں پر قربان کر دوں۔اسی اثناء میں اگست ۷ ۱۸۹ء مہنری مارٹن کلارک نے ایک نالش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کر دی میں نے اس مقدمہ کے حالات دوسری جنگ مقدس کے نام سے لکھے۔اس وقت مجھے اپنے سلسلہ کی ضروریات کے اعلان اور اظہار کے لیے اور اس پر جو اعتراضات پولٹیکل اور مذہبی پہلو سے کیے جاتے تھے ان کے جوابات کے لیے ایک اخبار کی ضرورت محسوس ہوئی چنانچہ اکتو بہ ۱۸۹۷ء میں احکم جاری کر دیا۔اس دقت گورنمنٹ پریس کے خلاف بھی اور موجودہ پریس ایکٹ اس وقت بھی قریب تھا جو پاس ہوجاتا۔تاہم ان مشکلات میں ہیں نے خدا پر بھروسہ کر کے امر تسر سے اخبار المحکم جاری کر دیا۔اء کے آخر میں روزانہ پیسہ اخبار کے مکرر اجرا کی تجویز ہو چکی تھی۔اور منشی محبوب عالم کے خواہش کے موافق ہیں نے روزانہ پیسہ اخبار کے ایڈ ٹیوریل شان میں جانا منظور کر لیا تھا۔میرا خیال تھا کہ الحکم کا ہیڈ کوارٹر لاہور بادل دینا چاہیئے اور محض اس خیال سے میں نے پیسہ اخبار کے ساتھ تعلق گوارا کر لیا تھا۔گرے ۱۸۹ء کے جلسہ سالانہ پر میں قادیان آیا تو یہاں ایک مدرسہ کے اجراء کی تجو یہ ہوئی۔اور اس کے لیے خدمات کے سوال پر میں نے اپنی خدمات پیش کر دیں اور اس طرح قدرت نے مجھے دیار محبوب میں پہنچا دیا۔الحکم کے اجراء کے وقت مجھے بہت ڈرایا گیا تھا کہ مذہبی مذاق کم ہو چکا ہے اور احمدیت کے ساتھ عام دشمنی پھیل چکی ہے۔اس لیے الحکم کا میاب نہ ہوگا۔مگر اللہ تعالی جانتا ہے میں نے الحکم کو ایک تجارتی پر چہ کی حیثیت سے جاری نہ کیا تھا بلکہ محض اشاعت سلسلہ اور حضرت دین کی نیت سے۔اس لیے اس کے پہلے پر جہ میں لکھا تھا سے