تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 629
۶۱۴ فرمایا تھا یا نہیں۔یہ خواب وہ پہلے بھی بیان کر چکے تھے۔یں حضرت صاحب کے پاؤں دبا رہا تھا۔کہ ایک شخص جس کے کندھوں پر خالی مشک بھی تھی۔اس نے بہت نامعقول اعتراضات کرنے شروع کیے۔اس کی گفتگو میں بہت بداخلاقی کے الفاظ تھے۔جس پر معرز برین جو موجود تھے۔جو غیر احمدی تھے۔انہوں نے بھی برا منایا اور اسکو لعن طعن کرنے لگے۔گر حضرت صاحب نے ان کو منع فرمایا۔فرمایا کہ یہاس کا قصور نہیں ہے۔یہ بے مسلم ہے۔مولویوں نے اسے کچھ باتیں سکھا کر بھیجا ہے۔چونکہ یہ دینی جوش رکھتا ہے۔اس لیے یہ ایسے الفاظ کہہ رہا ہے۔یہ اس کا تصور نہیں۔مجھے یہ اچھی طرح یاد نہیں۔کہ میں نے اس موقعہ پر ہی بیعت کی تھی۔یا پھر قادیان آکر۔اس وقت یک امرتسر میں قاضی امیر حسین صاحب کے پاس پڑھا کرتا تھا۔قاضی صاحب ان ایام میں احمدی تھے۔اور حضرت صاحب کے پاس جایا کرتے تھے۔اس کے بعد میں لاہور چلا گیا۔اور وہاں اور تمثیل کالج میں تعلیم پاتا رہا۔ان ایام میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم وغیرہ سے اکثر طاقات ہوتی رہی۔اور ان کے ساتھ اکثر قادیاں آنے کا اتفاق رہا۔چنانچہ مجھے یاد ہے۔کہ ایک دفعہ ہم قادیان اس غرض سے آئے تھے۔کہ پیشگوئی کے مطابق جورمضان شریف میں کسوف و خسوف ہوا تھا۔اس کی نماز مسجد اقصی میں پڑھی جاتی تھی۔چنانچہ ہم اس نماز میں شامل ہوئے۔کافی دیر تک وہ نماز جاری رہی۔غالبا ۱۸۹ء میں حضرت صاحب سفر ملتان سے واپسی کے وقت لاہور تشریف لے گئے اور وہاں شیخ رحمت اللہ صاحب کی دکان بمبئی ھاؤس کے پیچھے جہاں شیخ صاحب خود رہتے تھے۔وہاں حضرت صاحب فروکش ہوئے۔شام کے بعد کا وقت تھا۔کہ یکیں بھی وہاں حاضر ہوا۔اس کمرہ میں اور بہت سے لوگ حضور کی آمد کی خبر سنکر زیارت کے لیے حاضر تھے میشن کالج اور خالصہ کالج کے بعض طلباء بھی تھے۔اور متفرق لوگ بھی تھے۔سب نے عرض کی۔کہ حضور کوئی نظریہ فرما دیں۔حضور نے فرمایا۔کہ میں سفر سے آیا ہوں۔میں زیادہ تقریر تو نہیں کر سکتا۔مگر کچھ بیان کر دیتا ہوں۔چنانچہ حضور اس کمزہ کے شمالی جانب گلی کی طرف کی ایک سنجول دالی تا کی میں بیٹھ گئے اور کچھ فرمایا۔اس کا خلاصہ جو مجھے یاد ہے۔یہ تھا۔کہ مذہب ایک عربی لفظ ہے جس کے اصطلاحی معنے خدا کا راستہ ہے۔اور ہر ایک مذہبی آدمی کا یہ دعوئے ہے۔کہ میرا مذہب خدا تک پہنچا ہوا ہے۔فرمایا۔کہ اس ہے۔