تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 618
۶۰۳ کیا کہ آپ کے نزدیک آپ (یعنی حضرت مرزا صاحب) کیسے آدمی ہیں۔تو انس نے ذکر خیر سے اطمینان دلایا غالباً ان کا نام بشن داس تھا۔اچھی لمبی داڑھی تھی۔میں نے رو کر دعا کی اور حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔۔۔سے دریافت کیا کہ کیا اگر یں کچھ عرصہ اسی حالت ہیں رہوں اور بیعت کر لوں تو ایسا ممکن ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں حضرت صاحب سے دریافت کر کے بتا سکتا ہوں۔آپ نے ذکر کیا اور ظہر کی نماز کے بعد شرف بیعت سے میری عزت افزائی ہو کہ دعاکی گئی۔آپ نے فرمایا کہ اب اپنے آپ کو اسلام میں ہی سمجھو۔میں نے عرض کی۔حضور میں جلدی کوشش کروں گا۔رسالہ ملا میں جہاں میں ملازم تھا مردار سندر سنگھ کے ذریعہ جو دھرم کوٹ بگہ کے رہنے والے تھے حضرت میں موعود علیہ الصلاة والسلام کا تمام پورا پتہ مجھے معلوم ہوا اور ان کی ترغیب ہی سے مجھے اسلام پر غور کرنا پیٹنا۔سردار سندر سنگھ (یعنی فضل حق صاحب خوش مزاج اسلام کو حقیقی اور نہایت درست مذہب خیال کرتے تھے اور میرے اس استغفار پر کہ اگر اسلام واقعی اپنے اصولوں میں پورا راہنا اور خدارسیدہ بنا دینے والا ہے تو اب بھی تو اسلام میں کوئی روحانی انسان با کمال خدا رسیدہ ہونا ضروری ہے : اس پر انہوں نے حضرت مرزا صاحب کا ذکر کیا اور مجھے اسی لیے قادیان آنا پڑا بیعت کرنے کے بعد میں نے اپنے گاؤں میں رحمت کے باقی ایام پورے کیے۔ساری نمانہ کو یا دی اور دھر مسالہ میں روز چکے چکے تہاکر ذکر الہی اور لا الهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِن الظلمین اور کلمہ لا AND AWAN الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا درد اور وظیفہ کرتا رہا۔واپس رسالہ میں جا کہ میر منشی جلال الدین صاحب والد مرز امحمد اشرف صاحب سے تعارف ہوا اور ان کی وساطت سے میرے عقائد کو زیادہ مضبوطی علی فتح اسلام میں نے اپنی قلم سے نقل کیا تھا کیونکہ اس کی کاپیاں ختم ہونے کی وجہ سے نایاب تھیں۔آپ نے مولوی عبدالکریم صاحب کا قرآن کا درس سننے کی بھی ترغیب دی تھی۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو میں نے پہلے حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کی وساطت سے قادیان میں خط لکھ کر شہر سیالکوٹ میں پوچھتے پوچھتے تلاش کیا اور اُن سے آخر مشرف ملاقات ہوئی۔مولوی عبد الکریم صاحب کا درس قرآن کچھ دن شناگر مچھر محروم رہنا پڑ سکتھوں کی زیادہ مہربانی نے بید