تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 591
064 کے توسط سے حضرت امام تقی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔حضرت ڈاکٹر صاحب اس خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئے آپ کے ذریعہ آپ کے چھوٹے بھائی حضرت سید اسمعیل صاحب اور پھر آپ کی والدہ اور بی بہن تعلق گوش احمدیت ہوئیں۔آپ اپنے خود نوشت حالات میں تحر یہ فرماتے ہیں :۔اتفاق سے ۱۸۹۷ء میں جب میں مشرقی افریقہ جارہا تھا۔بھٹی میں ڈاکٹر رحمت علی صاحب جو کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب کے بڑے بھائی تھے ، سے ملنے کا اتفاق ہوا۔وہ بھی افریقہ جارہے تھے۔ایک ہی جہاز میں سوار ہوئے اور تمام رستہ انہیں سے حضرت اقدس کے متعلق بحث مباحثہ ہوتارہا۔آخر میں مان گیا۔گر بیعت نہیں کی۔اکثر عشاء اور تہجد میں دعائیں کرتارہا کئی دفعہ خواب میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حضرت اقدس کو بھی دیکھا گو ہیں احمدی جو چکا تھا کوئی شک و شبہ نہ تھا۔مگر بیعت کو ضروری نہ سمجھتا تھا۔آخریکا یک۔۔و1 ء میں اس زور سے تحریک ہوئی کہ نماز فجر پڑھنی مشکل ہوگئی بعد نماز فجر بیعت کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں تخریہ کر دیا۔اس کے جواب میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا خطہ قبولیت بیعت کا ملا۔آخر می فقرہ اس کا یہ تھا اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو آمین۔تب سے باقاعدہ چندہ وغیرہ دینا شروع کیا۔فروری ۱۹۰۱ ء میں قادیان حاضر مور کر دستی بیعت کی۔بیعت کے بعد میں پھر افریقہ چلا گیا۔افریقہ میں میاں محمد افضل صاحب ایڈیٹر البدر اور ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب مرحوم پہلے سے موجود تھے انہوں نے دہاں خوب کامیاب تبلیغ کی۔ڈاکٹر رحمت علی صاحب بھی انہی کی تبلیغ سے احمدی ہوئے تھے۔ڈاکٹر رحمت علی صاحب نہایت صالح اور منفی نوجوان تھے۔اُن کے ذریعہ کثرت سے لوگ احمدیت میں دخل ہوئے اور افریقہ کا چندہ نہایت معقول رقم ہوتی تھی۔وہاں تنخواہ بہت کافی ملتی تھی۔چنانچہ میں نے وہاں سے علاوہ پانچ روپے ماہوار کے یکصد منارة المسیح کے لیے اور یکصد ریویو آن ریلیجنز کے لیے بھجوائے۔اکثر حضرت اقدس کے لیے الگ رقم روانہ کرتارہا اگر احمدیت سے اچھی طرح واقفیت نہ ہونے کے باعث غیر احمدیوں سے اچھی طرح مباحثہ نہ کر سکتا تھا۔۱۹۰۳ء میں واپس انڈیا آیا اور بمع اہل و عیال سیدھا قادیان آگیا۔ر بقیہ حاشیہ منہ کے عقد میں آئیں رآب کو نرمت ۲ از شیخ محمد اکرام صاحب ناشر اداره ثقافت اسلامیه ۲ کلب روڈ لاہور هیچ چہار دہم ۱۹۹۰ء !