تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 576 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 576

041 حضرت مفتی صاحب جبوں میں پانچ سال ملازم رہے اگست ستمبشنید میں لاہور آگئے جہاں اسلامیہ بائی سکول لاہور میں مدرس ریاضی کے فرائض انجام دیتے رہے پھر دفترا کا ڈنٹنٹ جنرل پنجاب لاہور میں کلرک ہو کہ جنوری ۱۹۰۱ء تک لاہور میں رہے میلہ قیام جوں کے دوران آپ نے بی اے کی تیاری انگریزی عربی اور عبرانی مضامین میں جاری رکھی بیعت کے بعد آپ کو حضرت مسیح موعود سے ایسا عاشقانہ اور والہا نہ تعلق پیدا ہو گیا کہ جب تک ہوں میں رہے ہر سال موسمی تعطیلات میں تا دیان پہنچ جاتے اور لاہور آنے کے بعد تو آپ کا اکثر یہ معمول ہو گیا کہ عموماً ہر اتوار کو حضرت مسیح موعود کے قدموں میں حاضر ہو جاتے تھے اور اپنی نوٹ بک میں حضور کے شیریں کلمات خاص اہتمام سے درج کر لیتے اور واپس جاکر دیگر احباب لاہور کو سنا تھے بلکہ بیرونی مالک کے احمدیوں کو بھی بھجوا دیتے میں سے اُن کے نور ایمان میں بے پناہ ترقی ہوتی تھی۔حضرت مفتی صاحب کا بیان ہے کہ : - ، جب سے مجھے حضرت اقدس مسیح موعود کے دست بیعت ہونے اور آپ کی غلامی میں شامل ہوتے کا فخر حاصل ہے تب سے ہمیشہ میری یہ عادت رہی ہے کہ آپ کے مقدس کلمات کو نوٹ کرتا اور لکھ لیتا اور اپنی پاکٹ بکوں میں جمع کرتا اور اپنے مہربانوں اور دوستوں کو کشمیر کپور تھلہ ، انبالہ، لاہور ، سیالکوٹ ، افریقہ ، لندن روانہ کرتا جس سے احباب کے ایمان میں تازگی آتی اور میرے لیے موجب حصول ثواب ہوتا۔مدتوں لاہور یا یہ حانت رہی کہ جبب احباب من پاتے کہ یہ عاجز دارالامان سے ہو کہ آیا تو بڑے شوق اور التزام کے ساتھ ایک جگہ اکٹھے ہوتے اور میرے گرد جمع ہو جاتے جیسا کہ شمع کے گرد پر دانے۔تب میں انہیں وہ روحانی غذا دیا جو کہ میں اپنے امام کے پاس سے جمع کر کے لے جاتا اور ان کی پیاسی روحوں کو اس آپ زلال کے ساتھ ایسا سیر کر دینا کہ اُن کی نشستگی اور بھی بڑھ جاتی اور ان کی عاشقانہ رو میں اپنے محبوب کی محبت میں اچھلنے لگتیں۔یہی حال ہر جگہ کے محبان کا تقات حضرت مونانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے اور جنوری ۱۹۰۰ ء کے ایک مضمون میں حضرت مفتی صات کی محبت و عشق کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ :۔له ذکر جیب مت سے مضمون حضرت مفتی صاحب ستمبر ۱۹۰۲ د رذکر جیب م۱۳ )