تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 43
۴۳ کے بعد بھی اگر کوئی احمد می ان لوگوں سے دھو کا کھاتا ہے تو وہ یقینا احمدی نہیں۔اگر شیطان ہرسل کے بھیس میں بھی آئے تو مومن اس سے دھوکہ نہیں کھا سکتا۔پس تم میں سے ہر شخص کو ایسا ہی ہوشیار ہونا چاہیے، کہ کوئی شخص اپنی نسل کے سلسلے کو خواہ کہیں تک پہنچا تا ہو اور کون شخص خواہ کتنے ہی بڑے آدمی کو اپنا موید قرار دیتا ہو آپ اس پر لعنت ڈالیں۔اور اپنے گھر سے نکال دیں۔اور ساری جماعت کو اس سے ہوشیار کر دیں۔ایک دفعہ جماعت پیغامی فتنہ کا مقابلہ ا کہ چکی ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ اب اس سے دوسو گنے زیادہ ہوکر پیغامی فتنہ کا مقابلہ نہ کی جا سکے ) مرز امحمود احمد ضمیمه روزنامه العضل ۳۰ جولائی 90ء کے مرالف پر حضور کا درج ذیل پنجم پیغام سپر و اشاعت ہوا۔حضرت عثمان کے وقت میں ذرا سی غفلت نے اتحاد اسلام کو برباد کر دیا تھا بعض کز در طبع احمدی کہتے ہیں کہ کیا چھوٹی سی بات کو بڑھا دیا گیا ہے۔لاہور کا ہر شخص جانتا ہے۔کہ عبد الوہاب نائر العقل ہے۔پھر ایسے شخص کی بات پر اتنے مضامین اور اتنے شور کی ضرورت کیا تھی ؟۔حضرت عثمان کے وقت میں جن لوگوں نے شور کیا تھا۔ان کے متعلق بھی صحابہ یہی کہتے تھے۔کہ ایسے نیل آدمیوں کی بات کی پر واہ کیوں کی جاتی ہے ؟ حال میں ہی مری پر عیسائیوں نے حملہ کیا تھا اور ایک یہ اعتراض کیا تھا۔کہ تبوک کے موقعہ پر تمہارے رسول ہزار دل آدمیوں کو لے کہ جلتی دھوتے میں اور بغیر سامان کے سینکروں میں چلے گئے جب وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ معاملہ کچھ بھی نہیں کوئی رومی لشکر وہاں جمع نہیں تھے۔اگر وہ رسول تھے تو اتنی بڑی غلطی انہوں نے کیوں کی۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے ان کو بتایا کہ یہ خبر جو رومی لشکر کے جمع ہو نے کی آئی ہے غلط ہے۔تبوک کا واقعہ یوں ہے کہ پہلے ایک عیسائی پادری فکر میں آیا۔اور ملکہ سے اس نے مدینہ کے منافقوں سے سانہ بانہ کیا۔اور ان کو تجویہ بتائی کہ اس کے رہنے اور تبلیغ کرنے کے لئے وہاں ایک نئی مسجد بنائیں چنانچہ انہوں نے قبا نامی گاؤں میں ایک نئی مسجد بنادی۔وہ شخص چھپ کر وہاں آیا۔اور ان کو یہ کہ کے روم با روزنامه الفضل ربوه ۱۳۰ جولائی 12 ص