تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 561
۵۴۶ ہے۔خدائی ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ دلوں کی صفائی ہو اور انسانی متخیار یہ ہوتا ہے کہ سر کا ٹا جائے پس خدائی ہتھیاروں کی طرف توجہ کرو تا کہ انسانی تہتھیاروں کی ضرورت نہ رہے یا جلسہ سالانہ سے بھارت کے شہد ہوراحمدی علماء کے علاوہ سید اختر احمد صاحب اور نیوی پر و فیسر ا سر براہ شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی نے اور احمد نور صاحب انڈو نیشین نے بھی خطاب فرمایا یہ اس موقعہ پر مصر، انڈونیشیا، افریقہ، امریکہ وغیرہ جماعتوں کی طرف سے متعد د بر غیر پیغامات موصول ہوئے۔بھارت کی ممتاز مسلم شخصیات میں سے جناب ڈاکٹر سید محمود احمد صاحب سابق وزیر خارجہ کورت ہند نئی دہلی اور جنا خواجہ حسن نظامی صاحب ثانی رگدی نشین درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء نئی دہلی ) کے پیغامات موصول ہوئے جن میں جماعت احمدیہ کی دینی خدمات پر خراج تحسین ادا کیا گیا تھا۔ڈاکٹر سید محمود احمد صاحب کا پیغام حسب ذیل الفاظ میں تھا : - آپ کے دعوت نامہ کا بہت بہت شکریہ۔افسوس ہے کہ میں بوجہ مصروفیات جلسہ میں شامل نہیں ہو سکوں گا۔میں اگر چہ احمدی نہیں ہوں لیکن میرے دل میں حضرت خلیفۃ المسیح اور احمد یہ جماعت کے متعلق انتہائی طور پر احترام کے جذبات ہیں بوجہ اس کے کہ وہ اسلام کے لیے بے لوث خدمات اور بے غرضانہ کام سرانجام دے رہے ہیں : خواجہ حسن نظامی صاحب ثانی نے اپنے پیغام میں تحریر فرمایا کہ : - آپ لوگ ایسی عمدگی اور مستقل مزاجی سے تبلیغ کرتے ہیں کہ مجھے رشک آتا ہے۔۔۔۔۔مجھے آپ کی جماعت کے بہت سے عقائد سے اختلاف ہے۔لیکن یہ اختلافات اپنی جگہ اور آپ لوگوں کی مستعدی اور اپنی جماعت کی خدمتوں کا اعتراف اپنی جگہ ہے۔کوئی بھی انصاف پسند آدمی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ قادیانی مبلغوں جیسے دھن کے پکتے مبلغ بہت کم جماعتوں کو میتر ہیں؟ بعض غیر سلم معز ز ی نے بھی اپنے دلی جذبات خلوص پر مشتمل پیغامات بھیجے مثلا مشتری پنڈت نوسین لال - له بده را کنتر به ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۷ ء میں تفصیلی روداد درج ہے