تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 560 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 560

۵۴۵ فصل دوم قادیان اور ربوہ کے بابرکت سالانہ جلسے جلسه قادیان ۷٫۶ ۸۰ را کتوبه ۱۹۵۷ء کو اپنی سابقہ روایات کے مطابق منعقد ہوا۔اس بابرکت روحانی اجتماع میں بھارت کے دور دراز صوبوں کے علاوہ پاکستان اور انڈونیشیاء سے بھی بعضی احمد می تشریف لائے۔حضرت مصلح موعود نے اس مقدس تقریب پر حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا۔جو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے پڑھ کے سنایا۔مد قادیان کو رجماعت احمدیہ) کا مرکز بنانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا تھا۔اور مہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالٰی نے بھیجا تھا۔خدا تعالیٰ جب کسی ملک میں مامور بھجواتا ہے۔تو اس کے منے یہ ہوتے ہیں کہ اس کام کے چلانے کی ذمہ داری اس ملک والوں پر ہوتی ہے۔میرا پیغام تو یہی ہے کہ مہند دوستان کے اصحاب ربوہ اور پاکستان کی طرف للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے کی عادت چھوڑ دیں اور اس بات کو پوری طرح ذہن نشین کرین که مرکز احمدیت خدائی فیصلہ کے مطابق ہندوستان ہے اور شہروں کے لحاظ سے قادیان ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید لڑائی کے سوا پاکستان اور سند دستان آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔لیکن یہ محض مایوسانہ خیالات ہیں۔اگر اسلام مشرقی پنجاب اور اس کے ساتھ ملتے صوبوں میں پھیل جائے تو پاکستان اور مہند وستان کے دل فوراً مل جائیں گے اور بغیر لڑائی کے متحد ہو جائیں گے۔پس خدائی ذرائع کو اختیار کرو تا کہ انسانی وحشی خیالات کے پھیلنے کا موقعہ نہ