تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 557 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 557

۵۴۴ یقینا ، تشکر کے مزادار ہیں معترین نے اپنے اپنے دور میں قرآنی بصیرت کو عام کرنے ہیں جو کا وشیں کیں وہ اس لحاظ سے بھی ستحسن قرار پائیں گی کہ اس طرح تفسیر قرآن نے ایک باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کرلی اور مطالب در معانی کے ابلاغ کے باب میں تشخص کی ایک پختہ روایت قائم ہوگی۔محمد اللہ یہ سلسلہ جاری ہے اور رہے گا۔اس وقت تغیر صغیر پیش نظر ہے یہ تفسیر احمدیہ جماعت کے پیشوا الحاج مرزا بشیر الدین محمود مرحوم کی کا وش فکر کا نتیجہ ہے۔قرآن کے عربی متن کے اردو ترجمے کے ساتھ کئی مقامات کی تشریح کے لیے حواشی اور تغییری نوٹ دیئے گئے ہیں۔رجمے اور توانی کی زبان نہایت سادہ اور آسان فہم ہے۔تغیر میر حسن کتابت اور حسن طباعت کا مرقع ہے۔ہدیہ صرف ۲۵ روپے ہے جو لاگت سے بھی کہیں کم ہے۔لاہور کے مشہور ہفت روزه قندیل (۱۹ جون ۱۹۶۶ء) نے تفسیر صغیر پر مندرجہ ذیل تبصرہ کیا۔قرآن مجید کا بالمحاوره اردو ترجمہ مع مختصر نفيس ادارة المصنعين ربوہ سائز ۳۲ ۲۰ ملا انت ۳۵۴ صفحات بدیہ ( عکسی اعلیٰ کا غزہ پچیس روپے۔انجمن حمایت اسلام لاہور اور تاج کمپنی لمیٹڈ کی طرف سے قرآن حکیم کی طباعت میں جو خوش ذوقی کا ثبوت دیا جاتارہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔تفسیر صغیر کی اشاعت سے اس ردح آفرین سعی میں اضافہ ہوا ہے قرآن پاک کا یہ نسخہ اول سے آخر یک اعلی ترین آرٹ پیپر پر شائع کیا گیا ہے نسخ و نستعلیق دونوں خط فن کتابت کے عمدہ ترین نمونے پیش کر رہے ہیں۔آفسٹ کی طباعت کے باعث طباعت صاں اور۔دیدہ زیب ہے۔جلد عمدہ اور مضبوط اور اس پر پلاسٹک کا جاذب نظر غلاف ہے۔" غیر میر میں ترجمہ اور تغیر امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی کا وش کا نتیجہ ہے۔ترجمرا در حواشی کی زبان عام فہم ہے تاکہ ہر علمی استعداد کا آدمی اس سے مستفید ہو سکے۔ترجمہ اور تفیرمیں یہ التزام بھی ہے کہ جملہ تفاسیر منتقد میں آخر تک پیش نظر رکھی گئی ہیں۔ابتداء میں حروف تہجی کے اعتبار سے مضامین و مفاہیم کے تین معلومات آخرین انڈکس بھی شامل کیے گئے ہیں جس سے قاری کو مختلف آیات تلاش کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔قرآن مجید کو اس خوبصورتی سے طبع کرا کے شائع کرنا ایک بہت بڑی خدمت اسلام ہے۔پھر قیمت سه امروز (لاہور) ۳۰/مئی ۱۹۶۶ء ص۳