تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 546 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 546

۵۳۱ کر کے کتاب بھیج دیں تو خیال ہے کہ اس طرح ان کو ہزار گیارہ سوکا نفع ہو جائے گا۔اور پانچ سو والوں کو اس سے بھی زیادہ۔سواتین سو تعداد اس وقت تک صرف ربوہ والوں نے لی ہے اور امید ہے کہ اکتوبر تک ان کی خریداری کی تعداد چار پانچ سو تک جا پہنچے گی۔دوسرے نمبر پر کراچی ہے جنہوں نے تین سو جلد خریدی ہے اس کے بعد لاہور ہے جن کی سو کی درخواست تو آپی کی مگر دوسری درخواست ملی ہے کہ ۶۴ خریدار ہوچکے ہیں اور ابھی اور ہورہے ہیں۔پس اگر امور کو دو تو سمجھا جائے اور کراچی کو تین سو اور ربوہ کو پانچ سو تو یہ ہزار کی تعداد ہو جاتی ہے اور بقیہ جماعت کو ملا کہ اکتیں بنتیں سو کی تعداد ہے۔اور ابھی چار مہینے باقی ہیں۔من میں کتاب کی خریداری مکمل ہو جائے گی۔لیکن جلسہ تک مشکل تین ہزار آدمیوں کو کتاب مل سکے گی۔ہاتی لوگوں کو جنوری فروری کا انتظار کرنا پڑے گا اور ممکن ہے کہ اس عرصہ میں خریداری اور بھی بڑھ جائے اور کئی ہزار خریدار کو اگلے سال کے مٹی جون تک انتظار کرنا پڑے مرزا محمود احمد (خلیفة المسیح الثانی اله اس اعلان میں حضور نے جو اندازہ لکھا تھا۔اس کے مطابق تفسیر صغیر اور مضامین قرآنی کا انڈیکیس | اللہ تعالیٰ کے فضل سے 10 اکتو بہ تک تغیر مخیر کی طبابات کا کام مکمل ہو گیا۔حضور کی خدمت میں حبیب نمونہ کی کتاب پیش کی گئی۔تو حضور نے مولوی ابوالمنیر نورالحق صاب کوارشاد فرمایا کہ تغیر صغیر کانی نسیم ہوگئی ہے۔اس لیے اس کے ابتداء میں انڈیکیس کا ہونا ضروری ہے۔تا قار میں اس سے باآسانی استفادہ کر سکیں۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں مولوی ابوالنمیر نور الحق صاحب نے صفحات کا انڈیکیں جو تغیر مصغیر کے مضامین اور مضامین قرآنی پرمشتمل تھا۔پندرہ دن کے اندر اندر مرتب کہ رہا۔جو بعد کتابت طبع ہو کہ تغیر غیر کے ابتداء میں شامل ہوا اور یوں ۱۵ نومبر تک ۱۴۶۶ صفحات کی تفسیر مع انڈیکس ایک ہزار کی تعداد میں طبع ہو کر مکمل طور پر تیار ہوگئی۔جلد بندی کا کام مکرم محمد عبد اللہ صاحب جلد سانہ ریدہ نے کیا اس کام کی تکمیل پر سید نا حضور نے درج ذیل اعلان اخبار الفضل کو اشاعت کے لیے بھجوایا : عد میں قرآن کریم کے ترجمہ کے ختم ہونے پر پہلے ایک اعلات الفضل میں شائع کرا چکا ہوں۔اس لے روز نامه العضل ریوه در اکتوبر ۱۹۵۷ ء صفحہ ۳ : سے یہ انڈیکس اپنی افادیت کے پیش نظر علیحدہ کتا بچہ کی صورت میں بھی ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوا۔