تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 513 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 513

٤٩٨ آپ لوگوں کے لیے فخر کا موجب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگِ اُحد کے لیے تشریف لے گئے تو ابتداء میں اسلامی لشکر کو فتح حاصل ہو گئی تھی لیکن بعد میں مسلمانوں سے غلطی ہوئی جس کے نتیجہ میں کفار نے مسلمانوں پر پشت کی طرف سے حملہ کر دیا اور تناسخت حملہ کیا کہ ان کے قدم اکھڑ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گڑھے میں گر گئے اور لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں احد مدینہ سے قریب ہی واقع ہے اس لیے وہاں سے بھاگ کر لوگ مدینہ پہنچے انہوں نے وہاں یہ خبر پھیلا دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں یہ خبر سن کر مدینہ کے مرد عورتیں اور بچے دیوانہ دار احمد کی طرف بھاگے تاکہ آپ کی آخری بار زیارت کر سکیں لیکن اکثر لوگوں کو آپ کی سلامتی کی خبر راستہ میں ہی مل گئی اور وہ رک گئے مگر ایک عورت دیوانہ دار آگے بڑھتے ہوئے احد مقام تک پہنچ گئی اُحد کی جنگ میں اس عورت کا باپ خاوند اور بھائی تینوں مار سے گئے تھے اور بعض روائیوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔جب وہ دیوانہ وار احمد کی طرف جا رہی تھی تو لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کا علم ہو چکا تھا اور شکر کے تمام افراد نے آپ کو زندہ دیکھ لیا تھا اس لیے صحابہؓ آپ کی ذات سے متعلق مطمئن تھے۔لیکن اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی علم نہ تھاوہ دوڑ کر اندہ سماجی کے پاس پہنچی اور پوچھا کہ بناد معتمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے کیونکہ وہ صحابی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے اس لیے انہوں نے کہا بی بی مجھے بڑا انہیں ہے کہ تیرا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے اس عورت نے کہا کہ میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے اس پہ اس صحابی تھے کہا کہ بی بی مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا خاوند بھی اس جنگ میں مارا گیا اس عورت نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کرتی ہوں اور تم مجھے میرے باپ اور میرے خاوند کی موت کی خبر دیتے ہو۔اس نے کہا بی بی مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا بھائی بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے اس نے کہا خدا کے لیے تم مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے اس نے کہا رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خیر سے ہیں اس عورت نے کہا الحمد اللہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو مجھے اپنے باپ اور بھائی اور خاوند کی موت کی کوئی پرواہ نہیں پھر اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ رسول اللہ صل علیہ وسلم ہیں کہاں اس پر صحابی نے آپ کی طرف انگلی کا اشارہ کیا۔اور کہا آپ وہ ہیں۔اس پر وہ عورت آپ کی طرف