تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 494
۴۷۹ ۲۷ ۲۸ اگست کو حرمین شریفین کی برکات سے مستفید ہوئے اور پھر جدہ سے بذریعہ ہوائی جہاز بیروت تشریف لے آئے جہاں سے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق مغربی مالک کے دورہ پر روانہ ہو گئے صاحبزادہ صاحب نے بیروت پہنچ کر حضرت مرزا بشیر احمد کی خدمت میں ایک مفصل مکتوب ارسال فرمایا جس سے اس سفر کی ایمان افروزہ تفصیلات کے علاوہ بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی کی ردح پر در فضا اور اس میں کی جانے والی دردمندانہ التجاؤں اور دعاؤں کی کیفیت پر بھی تیز روشنی پڑتی ہے۔نیز اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ ان مقدس ترین مقامات کی پہلی جھلک ایک سچے عاشق رسول کو تڑپا دیتی ہے اور اس کے جذبات میں زبر دست تلاطم پیدا ہو جاتا ہے۔اس مکتوب کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے از بیروت لبنان پیارے ابا جان ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ الحمد للہ کہ آج ہم دونوں عمرہ اور زیارت مدینہ کی تکمیل کر سکے۔طہران سے ایک پوسٹ کارڈ آپ کو بھیجا تھا جو اُمید ہے مل گیا ہو گا۔طہران سے ۲۳ اگست کی رات کو ہم بخیریت بیروت پہنچ گئے تھے۔یہاں بیروت میں میاں نسیم حسین صاحب سفیر پاکستان سے ملے تھے۔بڑی محبت سے پیش آئے ہم دونوں کو کھانے پر بھی بلایا اور اپنی کار برائے میر وغیرہ بھی دی۔بیروت بہت خوبصورت شہر ہے اور مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ) کے سارے متمول لوگ یہاں کی پہاڑیوں پر موسم گرما گزارنے آتے ہیں اس میں یہ خصوصیت ہے کہ سمندر پر واقع ہے اور صاف ستھرا شہر ہے اور ۲۰ منٹ میں مختلف پہاڑی مقامات پر جایا جا سکتا ہے۔جہاں موسم بہت خوش گوار ہے۔بیروت پہنچ کر یہ پتہ چلا کہ ۲۴ تاریخ کو جدہ کے لیے سعودی عرب کی ایٹہ لائن کا کوئی جہاز نہیں جارہا۔البتہ ۲۵ کو جائے گا۔اس وجہ سے ایک روز ہمیں بیروت میں زائد ٹھہرنا پڑا۔سعودی عریبیا ایر لائن کی انتظامی حالت خراب ہے۔جہانہ پر جب ہم چڑھے تو اندر سے بوسیدہ اور سینوں کی مرمت معمولی دنیاتی کام کی سی تھی۔کھانا گتے کے ڈبوں میں بند کر کے دیا اور