تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 493 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 493

۴۷۸ پچاس ہزار ہوں تو پندر دولاکھ ڈالر ماہوار ہوں گے۔اگر جماعت کے ایک لاکھ آدمی ہو تو تمہیں لاکھ ڈالر کی آمدنی ہونی چاہیے۔اگر اتنی آمد ہو تو ہم خدا کے فضل سے امریکہ کو چالیس پچاس مبلغ بھجوا سکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں امریکہ کی جماعت نہایت منظم ہو سکتی ہے۔آپ کا ملک ایک اہم ملک ہے آپ کی ہی قوم کے لوگ ویسٹ افریقہ میں جماعت احمدیہ میں داخل ہو رہے ہیں جن کی تعدا د سارے ملکوں کو ملاکہ ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خلیفہ سے تعلق رکھنا مبلغ سے تعلق رکھنے سے بہت اعلیٰ ہے ہر احمدی کو دوسرے تیسرے مہینے براہ راست خلیفہ کے نام خط لکھنا چاہیئے جواب نہیں لکھا جاتا اور جو احمدی دوسرے مہینے بھی خط نہیں لکھتے ہیں سمجھتا ہوں کہ وہ احمدیت میں کمزور ہیں۔سب دوست اگر براہ راست خط لکھیں گے تو یں بھی ان کو جواب دوں گا۔درمیانی واسطوں کا تعلق کبھی مضبوط نہیں ہوتا ہمارے ملک میں مثل ہے کہ خط آدھی ملاقات ہوتا ہے۔آپ پاکستان سے ہزاروں میلوں پر رہتے ہوئے اور جماعت احمدیہ کا نمبر ہوتے ہوئے اگر دو مہینے ہیں ایک دفعہ اپنے خلیفہ سے آدھی طاقات کی خواہش نہیں رکھتے تو آپ کی احمدیت کس کام کی ہے۔ایسی عقیدت سے تو دنیا کی کمزور سے کمزور جماعت بھی کوئی خوشی محسوس نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے فرائض کو سمجھنے کی توفیق دے دے مرز المحمود احمد خلیفة المسیح الثانی ۲۳/۸/۵۷ اس سال صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب را بن حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب صاحبزادہ مرزا بشیر احمدصاحب کو مرکز اسلام بینی مکه معظمه کی زیارت حرمین شریفین اور مدینہ منورہ کی زیارت نصیب ہوئی۔اس مبارک سفر میں آپ کی بیگم صاحبزادی امتہ القیوم بھی مہرارہ تھیں۔آپ اور اگست کو بذریعہ طیارہ کراچی سے روانہ ہوئے اور ظہران اور بیروت سے ہوتے ہو ئے اور اگست کو نزیل جدہ ہوئے اور پھر ۲۰ له الفضل ۲۴ اگست ۱۹۵۷ و ملا