تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 486 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 486

امام تاریخی خطہ عیدالاضحی اور وقف جدید کی نئی سکیم کا ذکر جولائی ۱۹۵۷ء کا دن سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا کیونکہ اس روز سید نا حضرت مصلح موعود نے اپنے دلولہ انگیز خطہ عید الاضحیہ میں وقف جدید کی ایک نئی سکیم پیش کی۔چنانچہ فرمایا۔حضرت اسمیل علیہ السلام کی قربانی یہ نہیں تھی جیساکہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انہیں ذبح کرنے کے لیے حضرت ابراہیم نے زمین پر لٹا دیا تھا۔لیکن بعد میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کہ آپ نے ذبح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔اور الہی اشارہ کی بناء پر ان کی جگہ ایک بکرا ذبح کر دیا۔میں بارہا بتا چکا ہوں کہ در حقیقت محضر براہیم علیہ السلام کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کو وادی مکہ میں چھوڑ آنے کے متعلق یہ ریڈ یا دکھائی گئی تھی۔کیونکہ ایک بے آب و گیاہ وادی میں بیٹھ جانا بھی بہت بڑی قربانی ہے۔جیسے شروع شروع میں ربوہ میں چند آدمی خیمے لگا کر بیٹھ گئے تھے۔تاکہ اسے آباد کیا جائے۔وہ آدمی در حقیقت اس وقت اسمعیلی سنت کو پورا کر رہے تھے وہ صرف اس لیے یہاں بیٹھ گئے تھے کہ آئندہ یہاں ربوہ آبا د کیا جائے۔اگر وہ قربانی ہ کرتے۔اور یہ بوہ میں آکر خیمے لگا کرنہ بیٹھ جاتے تونہ یہ شہر بتانہ سڑکیں بنتیں نہ بازار بنتے۔نہ مکانات بنتے۔اور یہ جگہ پہلے کی طرح چٹیل میدان ہی رہتی۔امریکہ میں جوفری تھنکنگ FREE THINKING) کی تحریک پیدا ہوئی ہے۔اس کا بانی ایک فرانسیسی شخص ہے۔اس نے اپنا فقہ یہی لکھا ہے کہ میں ایک دن اپنے باپ کے ساتھ ایک پادری کا وعظ سنے گیا تو وہاں اس نے یہ کہا کہ ابراہیم بڑا نیک انسان تھا۔اس نے خدا کی خاطر اپنے اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی وہ لکھتا ہے کہ اتفاق کی بات ہے میں بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہی تھا میں یہا سے نکل کے بھاگا۔میرے دل میں یہ خون پیدا ہوا کہ اگر میرے باپ کو یہ خطبہ پسند آگیا تو وہ کہیں میری گردن یہ بھی چھڑی نہ پھیر دے۔میں سمندر بہ گیاوان یک امریکہ جانے والا جہانہ کھڑا تھا۔میں اس میں گھس گیا کہ