تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 477 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 477

بکہ ہیں وہ حکومت حاصل ہوتیں میں محمد رسول اله صل اللہ علیہ سلم کا بھی حصہ ہو کیونکہ پھر صرف چھلکا ہی نہیں روح بھی ہمیں مل جائے گی یہ سیدنا حضرت مصلح موعود نے ستمبر ۱۹۴۵ ء میں بہتہ مہتہ عبدالخالق صاحب پاکستان کے عبد الخالق صاحب کی نسبت رویاء میں دیکھا کہ مشیر معدنیات کے عہدہ پر وہ نہایت بیش بہا لباس میں ملبوس ہیں۔الفضل ۲۵ ستمبر ۱۹۴۵ ء م ) یہ خواب مارچ ۱۹۵۷ ء میں پورا ہوا جبکہ آپ کو حکومت مشرقی پاکستان کی طرف مشیر معدنیات (MINERAL ADVISER) مقرر کیا گیا ہے رپورٹ مجلس مشاورت جماعت احمدیه منعقد نه بوه ۲۲/۲۱ ۲۳ مارچ ۱۹۵۷، مقر ۵۶۵۲ کے مہتہ صاحب قیام پاکستان کے ابتدائی دس سالوں میں بھی پاکستان کی ترقی کے لیے شب وروز مصروف عمل رہے چنانچہ انہوں نے تحقیقات کی کہ قلات کی ریاست عظیم معدنی دولت سے مالامال ہے جو حیران کن حد تک متنوع ہے چنانچہ روزنامہ مغربی پاکستان لاہور را اراپریل ۱۹۴۸ء) نے اس خبر کو نمایاں شہ سرخی کیساتھ شائع کیا اور لکھا سر عبد الخالق مہندر باست قلات کے چیف جیالوجیٹ و مبدر محکمہ ارمنیات ہیں آپ کو بین الاقوامی پٹرولیم کا انگرس نے ۵ ارمئی ۱۹۴۸ء کو منعقد ہونے والی سلور جوبلی میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے۔۔۔انٹرنیشنل پٹرولیم کا نگر س مسٹر مہتہ کا خاص احترام کرتی ہے اس کے علاوہ پٹرولیم ٹیکنالوجی اینڈ جیا فزکس کی امریکہ انہیں سر ہتہ کے فنی مشورہ کی ہمیشہ خواہشمند رہتی ہیں مسٹر مہتہ نے ریاست قلات کے مدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے خان قلات کو ایک وسیع پر وگرام پیش کیا ہے۔اگر اسے عملی جامہ پہنا دیا گیا و درصورت دریاست کے عام باشندوں کو بلکہ پاکستان کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا مٹر مہتہ اس سے پہلے اعلان کر چکے ہیں کہ اگر مجھے پانچ برس کی مہلت مل جائے تو ریاست قلات کو معدنی لحاظ سے پاکستان کی ہمت نہ کریں بیبات بنادوں گا۔مسٹر مہتہ امریکہ کی بہت سی انجمنوں اور کانگرسوں کے رکن ہیں"۔(مزید معلو بات کیلئے ملاحظہ ہو ۴۵۷ AND WHATP - who knows (باقی صفحہ ۲۶۳ پر )