تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 476 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 476

ہوا ہے کہ یوم آزادی کے لحاظ سے صدر انجین احمدیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یہاں شام کو روشنی بھی کرا دیں اور غربا ر میں کھانا بھی تقسیم کریں۔اُن کا یہ فعل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع میں ہے جب ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی ہوئی تھی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے فرمایا تھا کہ خوب خوشی منائی جائے۔چنانچہ قادیان میں منارة المسیح اور مکانوں کی چھتوں پر روشنی کا انتظام کیا گیا۔اگر ایک عیسائی ملکہ کی جو بی پی اتنی خوشی منائی جائزہ ہو سکتی ہے تو ایک اسلامی ملک کی آزادی پر اس سے ہزار گنے خوشی منائی جائزہ ہو سکتی ہے۔پس اُن کا یہ اقدام نہایت سخن ہے اور ہماری جماعتوں کو بھی چاہیئے کہ جہاں جہاں وہ ہیں اس دن جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو آزادی بخشتی ہے اور اسلامی حکومتوں میں ایک اسلامی حکومت کا اضافہ ہوا ہے خوشی منائیں چرا نا کریں اور عزباء میں کھانا تقسیم کریں۔پاکستان گو چھوٹا ملک ہے لیکن اپنے جائے وقوعہ اور آبادی کے لحاظ سے باقی تمام اسلامی ملکوں سے طاقتور ہے اس کی آپاندی ، کروڑ سے زیادہ ہے۔اور پھر اسے ایسے سامان میسر ہیں کہ کوئی تعجب نہیں کہ دس پندرہ سال کے اندر ہمارے ملک کی آبادی بارہ تیرہ کر دوڑ ہو جائے اور اگر اللہ تعالی کشمیر کو ادھر سے آیا اور مذاکرے کہ ایسا ہی ہو تو ایک دن میں ہی آبادی میں ایک کروڑ کی زیادتی ہو جائے گی اور کئی سامان ترقی کے پیدا ہو جائیں گے۔بہر حال ہمارا ملک جو اس وقت سارے اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ آباد ہے : در سب سے زیادہ ذرائع ترقی کے رکھتا ہے اگر ترقی کرے تو یقیناً دو مری اسلامی حکومتیں بھی اس کے ساتھ ساتھ ترقی کریں گی۔اور اس کو اپنا لیڈر تسلیم کہ میں گی۔انھی ہندوستان سے بعض جھگڑوں کی وجہ سے بعض ہما یہ اسلامی حکومتیں اپنے آپ کو پاکستان سے زیادہ طاقت در سمجھتی ہیں مگر جس دن پاکستان اپنی مشکلات سے آزاد ہوا۔اس کی صنعت و حرفت نے ترقی کی اور اس کی طاقت بڑھ گئی تو اردگرد کی اسلامی حکومتیں اس بات پر مجبور ہوں گی کہ اسے اپنا لیڈر تسلیم کریں۔پس احمدیوں کو اس تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ وقار کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔دعائیں کریں اور بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس دن کو منائیں تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پاکستان کی طاقت کو بڑھانے اور پھر اسلامی روح کو بھی پڑھائے۔کیونکہ خالی پاکستان کی ترقی اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتی جب تک که اسلامی روح بھی ترقی نہ کرے تاکہ ہم صرف اسی پر خوش نہ ہوں کہ ہمیں ایک حکومت حاصل ہے