تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 474 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 474

* ان کو اس لیے ہوئی کہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستانی مزدور ہے اور وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں نے کئی دفعہ یہ واقعہ سنایا کہ جب صلیبی جنگوں کے زمانہ میں عیسائیوں نے ملکہ کے قریب مسلمانوں کو شکست دے کر اپنی نو میں فلسطین میں داخل کر دیں اور فلسطین کا وہ حصہ جو مکہ اور حیفہ کے پاس ہے اس کو فتح کر لیا اور تھوڑا سا حصہ مسلمانوں کے پاس رہ گیا تو اس وقت ایک قافلہ بغداد سے شام اور فلسطین میں تجارت کے لیے آیا ہوا تھا۔جب وہ قافلہ شام کی حدود میں سے گزر رہا تھا تو انہوں نے ایک عورت کی آداز شنی جو چلا چلا کہ کہ رہی تھی۔اسے امیر المومنین میری فریاد کو پہنچو ده کوئی عورت تھی جس کو عیسائی پکڑ کر لے جارہے تھے پاس ہی مسلمانوں کی بستیاں تھیں۔عیسائی لنض اوقات ان بستیوں پر ڈاکہ مارتے تھے اور مسلمانوں کو پکڑ لیتے تھے۔چنانچہ عیسائی لوگ اس عورت کو پکڑ کر لے جا رہے تھے اس بے جاری کو پتہ نہیں تھا کہ آج کل امیر المومنین کی کوئی طاقت نہیں ہے بغداد کے قلعہ سے باہر اسے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔مگر اس کی پرانی شہرت ابھی باقی تھی۔اس کی وجہ سے اس نے یہ آواز دی کہ اسے امیر المومنین میری فریاد کو پہنچیں۔قافلہ والے پاس سے گزر گئے اور کسی نے اس کی مدد نہ کی۔وہ آپس میں یہ باتیں کرنے لگے کہ عجیب بے وقوف عورت ہے اس کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ اب امیر المومنین کی کوئی طاقت نہیں۔حبیب قافلہ بغداد پہنچا تو کچھ لوگ سودا د غیرہ خریدنے کے لیے آئے۔تو انہوں نے دریافت کیا کہ کوئی عجیب واقعہ آپ کے ساتھ گزرا ہو تو بتاؤ۔اس پر قافلہ کے بعض لوگوں نے بتایا کہ ہم نے واپسی پر یہ عجیب واقعہ دیکھا کہ ایک عورت کو عیسائی کپڑے لیے جا رہے تھے یا امیر المومنین کے نعرے لگا رہی تھی شاید اس کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارے خلیفہ کی آج کل کوئی طاقت نہیں۔کسی درباری نے بھی یہ بات سُن لی۔وہ دربار میں گیا تو اس نے عباسی خلیفہ سے کہا امیر المومنین! آج ایک قافلہ شام سے واپس آیا ہے اور اس نے یہ خبر سنائی ہے کہ اس اس طرح شام کی ایک مسلمان عورت کو عیسائی پکڑ کر لیے جارہے تھے۔اور اس نے یہ نعرہ لگایا کہ اسے امیر المومنین میری فریاد کو پہنچیو۔حضور اس کو اتنا بھی پتہ نہیں تھا کہ بغدادی حکومت اب اتنی کمزور ہو چکی ہے۔جیب خلیفہ نے یہ بات سنی تو گو اس کے پاس کوئی فوج نہیں مفتی سارے علاقے باغی ہو چکے تھے اور ہر صوبہ میں الگ حکومت قائم ہو چکی تھی۔وہ اسی وقت تخت سے نیچے آتہ آیا اور کہنے لگا خدا کی تم جب تک میں اس مسلمان عورت کو چھڑا کہ نہیں لاؤ نگا اس وقت تک میں تخت پر نہیں میٹوں گا۔