تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 473 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 473

۴۵۸ ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو تمام پہلا یوم جمہوریہ پاکستان ا احمدی نمائندوں کی قرارداد پاکستان میں سے جو وہ اسلامیہ بنے کی پہلی سالگرہ منائی گئی۔یہ تقریب احمدیوں کے لیے دوسری خوشی کا موجب تھی۔ایک تو اس لیے که ۲۳ ماریت کی قرار داد عمل شکل اختیار کر گئی اور پاکستان کی سب سے بڑی مسلمان حکومت معرض وجود میں آگئی۔جس کے قیام میں جماعت احمدیہ نے ہندوستان کی دیگر تمام مذہبی جماعتوں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔دوسرے ۱۳۳ را سرچ کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جماعت کی بنیا د رکھی۔۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو ربوہ میں مجلس شوری کے میرے اجلاس جماعت احمدیہ پاکستان اور ممالک بیرون کے نمائندگان نے متفقہ طور پر حسب ذیل قرار داد پاس کی۔جسے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے پیش کیا۔۔در جماعتہائے احمدیہ پاکستان اور بیرونی ممالک کے نمائندوں کا یہ عمومی اجلاس جو اپنے مرکز میں ہورہا ہے۔آج ۲۳ مار پتا یوم جمہوریہ اسلامیہ کیا پُر مسرت تقریب کے موقعہ پر تمام پاکستانیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا کرتا ہے کہ وہ ہمارے آزاد ملک کو ہر قسم کی ترقی سے نواز سے اور اس کے باشندوں میں کامل اتحادیگا نگت اور وحدت پیدا کرے۔پاکستان کی ترقی کے راستہ میں جو مشکلات اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا کی جارہی ہیں ہماری اللہ تعالے دعا ہے کہ وہ ان سب مشکلات کو اپنے خاص فضل سے جلد دور فرمائے۔اور حکومت کو عوام کی صحیح خدمت کی توفیق بخشے۔آمین یا رب العالمین نیوز بہ قرار پا یا کہ اس قرار داد کی نقول اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر۔وزیر اعظم گور نرمغربی پاکستان اور گورز مشرقی پاکستان کی خدمت میں ارسال کی جائیں۔اس موقع پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا۔آج پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔اور جیسا کہ میں کل بتا چکا ہوں اس کو ہمیں دنیوی بات نہیں سمجھنا چاہیئے بلکہ چونکہ پاکستان کی ترقی اور طاقت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی تر قی کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اس لیے ہمیں اس کو دین کا ہی ایک حصہ سمجھنا چاہیئے مثلاً پچھلے دنوں سپین کی حکومت نے ہمارے مبلغ کو نوٹس دیا کہ وہ وہاں سے چلا جائے۔کیونکہ سپین میں اسلام کی تبلیغ منع ہے۔ظاہر ہے کہ یہ جرات