تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 468 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 468

۴۵۴ نہیں نہیں لے سکتا تو میں ایک ڈاکٹر فضل کو جانتا ہوں جو ڈینٹسٹ (DENTIST) تھا لیکن خواب میں جو ہیں نے دیکھا کہ ڈاکٹر فضل نسخہ دیتا ہے در حقیقت اس کے معنے صحت کے آثار کے تھے چنانچہ میں نے یہ خواب پر سوں دیکھی تھی۔اس کے بعد کل بھی میں نے سارا دن کام کیا اور آج بھی کام کیا۔یہ دہ فضل ہے جو چل رہا ہے اور یہی خدا تعالیٰ نے میری پیدائش کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کو کہا تھا کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔تو ہمارے کام خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہوتے ہیں اگر ولایت جانا مفید ہو گا تو خدا تعالیٰ یہاں جانے کے سامان کردے گا اور اگر دلایت جانا مفید نہیں تو اللہ تعالیٰ میرے دل میں انقباض رکھے گا اور ڈاکٹروں کو بھی اس طرف متوجہ نہیں کرے گا : سحضرت مصلح موعود نے مشاورت میں تحریک جدید کے میزانیہ ۵۷ - ۱۹۵۰ء سے متعلق سب کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے پر تحریک جدید کی آمد کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا : دور ا دل والوں نے اتنی جلدی ترقی کی تھی کہ بعض ایسے سال بھی آئے کہ اُن کا چندہ دس لاکھ تک پہنچ گیا۔مگر دور ثانی کے نوجوانوں کا چندہ دولاکھ پر پہنچ کر گرا اور پھر اس کے بعد پڑھنا شروع ہوا۔اب وہ اپنی کی پوری کر رہے ہیں لیکن ابھی ایسی وہ نہیں جو قابل ذکر ہے۔حالانکہ نو جوانوں میں کام کرنے کی روح بوڑھوں سے زیادہ ہونی چاہیئے۔بوڑھے فوت ہو رہے ہیں اور جو زندہ ہیں۔دانتوں یہ ریٹائر ہو جائیں گے۔اس طرح ان کے چندوں میں بھی کی آجائے گی اور یہ کسی دوسر ثانی نے پوری کرنی ہے۔یا ہمارے محکمہ زراعت نے پوری کرتی ہے۔کئی سکیمیں انہوں نے بنائی ہیں جو معقول ہیں اور کئی سکیمیں میں نے بھی ان کو بتائی ہیں۔اور کئی سجادیہ محکمہ زراعت نے پیش کی ہیں۔اگر وہ اُن پر عمل کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ تحریک جدید کا نام غیر ملکوں میں اور بھی بڑھ جائے گا اور وہاں جماعت پھیل جائے گی۔مثلاً انڈونیشیا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی ہے۔اسی طرح دلیٹ افریقہ میں کوئی ایک لاکھ کے قریب جماعت ہے۔آج سے بیس سال پہلے مولوی نذیر احمد علی صاحب مرحوم نے لکھا تھا کہ ہماری جماعت یہاں میں ہزار ہے۔اس وقت انہوں نے لکھا تھا کہ سالانہ جلسہ پر ہمارے تین ہزار نمائندے آئے وہ ملک بڑا وسیع ہے۔اگر مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں کو ملا لیا جائے تو وہ اس سے بھی دُگنا ہے اتنی دور سے لوگوں کا آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔پھر وہاں اپنے سامان سفر