تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 467 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 467

۴۵۲ فائدہ نظر آتا ہو پھر تو میں وہاں جانے کی کوشش بھی کروں ورنہ خواہ مخواہ اپنے دوستوں اور عزیزوں سے جدا بھی ہوں اور کوئی فائدہ بھی نہ ہو تو وہاں جانے کا فائدہ ہی کیا ہے میں اسی ٹوہ میں لگا رہتا ہوں کہ اس بسیاری کا کوئی علاج نکل آئے تو میں اس سے فائدہ اٹھاؤں رسالوں اخباروں میں اس بیماری کے متعلق جو مضامین چھپتے ہیں ہیں ان کا خیال رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔بہر حال اگر حقیقی طور پر یورپ جانے سے فائدہ ہو تو مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اللہ تعالی کا حکم ہے کہ ہماری کا علاج کراؤ۔لیکن مجھے بھی تو نظر آنا چاہیئے کہ کوئی فائدہ ہو سکتا ہے وہاں میں نے جتنے ڈاکٹروں سے پوچھا ہے اُن کا یہی جواب آیا ہے کہ آپ کو اپنی دواؤں سے فائدہ ہوگا جو آپ اس وقت استعمال کر رہے ہیں پس اگر بیماری کا کچھ حصہ باقی ہے تو وہ دعاؤں کے ساتھ دور ہو گا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا اور سلسلہ کی خدمت کی توفیق دینا اس کے مد نظر ہو گا تو وہ توفیق دے دیگا۔۔۔۔۔۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد جب اخبار میں چھپتا ہے کہ طبیعت اچھی نہیں تو جماعت میں بیداری پیدا ہوتی ہے۔تو انہیں میری بیماری کا احساس ہوتا ہے۔ادھر کچھ دعائیں ہوتی ہیں اور کچھ منافقوں کی منافقت ظاہر ہوتی ہے۔اب مثلاً ہماری جماعت کو اس قسم کے اخلاص دکھانے کا جو موقع ملا ہے۔اور کل جو خلافت کے استحکام کے لیے ریزولیوشن پیش کیے گئے دراصل یہ دہی بات تھی کہ خدا تعالیٰ نے جماعت سے ریس دور کیا اور جماعت کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ ہم نے خلافت کا جھنڈا ہمیشہ کھڑا رکھا ہے اگر یہ بیمار نہ ہوتی تو یہ باتیں بھی پیدانہ ہوتیں۔پس میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ بیماری محض تطہیر کے لیے ہے۔یہ بیماری اس لیے ہے ہمیں خداتعالی سے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ موجودہ عارضوں کو بھی دور کہ ہے۔پرسوں میں نے رڈیا میں دیکھا کہ :- کوئی شخص بیٹھا ہے جس کو میں پہچانتا نہیں ، میں اسے ایک نسخہ دے رہا ہوں اور کہ رہا ہوں کہ ڈاکٹر فضل نے یہ لکھ کر دیا ہے۔اس کے اوپر پیڈ پر اس کا مونوگراف بھی چھپا ہوا ہے جو نہایت اعلیٰ اور خوبصورت ہے۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک ڈاکٹر فضل کو میں جانتا ہوں۔میں کوٹ گیا تو وھاں مجھے گاؤٹ کا دورہ ہوا ڈاکٹروں نے کہا دانت دکھائیں جب ایک ڈاکٹر کو میں دانت دکھانے گیا تو اس کے مکان پر بورڈ لگا ہوا تھا " ڈاکٹر فضل" جب ہم فیس دینے لگے تو انہوں نے کہا۔میں تو سید محمود اللہ شاہ صاحب کا شاگرد ہوں انہوں نے مجھے بچوں کی طرح پالا ہے اس لیے میں آپ سے